پیغبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خاکے اور آزادی اظہار، ہم پریشان ہیں، میری مدد کیجئے
چند روز قبل میں دفتر میں بیٹھا خبروں کی تلاش میں سرگرداں تھا کہ میری نگاہ ایک خبر پر پڑی، سوئیڈن میں کسی فیس بک یوزر نے پیغمبر اسلام کے خاکے بنانے کا مقابلہ رکھ چھوڑا، میرا ذہن اس خبر سے جڑی ماضی کی کئی خبروں میں الجھ گیا اور میں آنے والے دنوں میں کئی افراد کی ہلاکت، املاک کا نقصان اور احتجاجی مظاہرے دیکھنے لگا۔ ایک طرف تو بحیثیت انسان مجھےآزادی اظہار اور آزادی رائے کے حق پر فخر تھا اور دوسری طرف مسلمانوں کی دل آزاری پر افسوس۔ میں سوچ رہا تھا کہ کیا کیا جائے، ظاہر ہے حضور کی شان میں کوئی گستاخی کرتا ہے تو تکلیف ہوتی ہے اور دوسری طرف میں اس حق کو بھی تسلیم کرنے والا شخص ہوں کہ انسان بنیادی طور پر آزاد پیدا ہوا ہے اور اسے اپنی سوچ اور اپنا نکتہ نظر بیان کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ پھر خیال آیا کہ ایسے مواقع پر اسلام کا یا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا اپنا طریقہ کار کیا رہا ہے۔
مکہ کی ایک عورت جو حضور پر اپنے گھر کے قریب سے گزرنے پر کچرا اور نجس اشیا پھینکا کرتی تھے، اس کے خلاف حضور نے کیا کیا، یا حضور کے جاں نثار صحآبہ نے ایسے موقع پر کیا راستہ اختیار کیا۔ کہیں اس خاتون کو قتل تو نہیں کیا گیا، یا کہیں مکے کی گلیوں میں اس نہایت نازیبا حرکت پر کوئی احتجاج تو نہیں ہوا؟ تو نظرآیا کہ نہیں، ایک مرتبہ اس عورت نے حضور پر کچرا نہ پھینکا تو دریافت کیا کہ وہ عورت آج کہاں ہے؟ جب معلوم ہوا کہ بیمار ہے تو اس کی عیادت کے لئے اس کے گھر گئے اور اس کے حق میں دعا کی۔ طائف کی وادی میں حضور کو گالیاں دی گئی، پتھر برسائے گئے، نعوذ باللہ پاگل کہا گیا، انہیں ان گلیوں میں گھسیٹا گیا۔ اور وہاں سے باہر نکلنے پر اس لہولہال عظیم المرتبت پیغمبر نے اس بستی کو ویران کر دینے کی دعا کی بجائے اس بستی کے لوگوں کے حق میں، ان کے علم میں اضافے کی دعا کی۔ حضور نے کہا تھا اے اللہ انہیں معاف کردے کہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں علم عطا کر کے یہ حق و باطل میں فرق کر سکیں۔ بعد میں اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے دو بڑے جرنیل خالد بن ولید اور عمروبن العاص ایمان بھی لائے اور اسلامی فتوحات میں حصہ بھی لیا۔ جن لوگوں نے مکہ میں حضور کی لئے زمین تنگ کر دی تھی انہیں فتح مکہ کے بعد معاف کر دیا اور اپنے سب سے بڑے دشمنوں کے گھروں کو دوسرے کے لئے جائے پناہ کا درجہ دیا گیا۔ یہ تو بڑی مثالیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی تو شاید لاکھوں مثالیں ہوں گی۔
جب یہ سب دیکھا تو پھر سوچا کہ جوآج دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں، یہ حضور کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف ہیں یا حضور کی شان میں خود گستاخی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ پھر یہ سوال میرے ٖذہن میں ابھرا کہ حضور کے نام پر کوئی خاکہ منسوب کرنے سے یا حضور کی زندگی کے کسی حصے پر کچڑ اچھالنے کی کوشش سے حضور کے مرتبے پر کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ کیا ان کے درجے میں کوئی کمی آ سکتی ہے؟ کیا ہزار ہا گنا بہتر نہ ہوتا کہ ایسی کسی بھی حرکت کو ہم سرے سے نظر انداز کر دیتے یا ایسے لوگوں کے حق میں دعا کرتے۔ بہت دن قبل مجھے سلمان رشدی کی کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ مجھے وہ کتاب پڑھ کر ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ ہنسی اس لئے کہ میں لکھاری ہوں اور وہ ناول مجھے صرف ایک اوسط درجے کا ناول لگا جو رشدی کے دوسرے ناولوں کے مقابلے میں انہتائی کم حیثیت کا تھا، اور اسے اتنی شہرت ملی اور اس کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور غصہ اس بات پر آیا کہ خواہ مخواہ اسے اتنی اہمیت دی گئی، کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس شخص کے لئے تمام مسلمان مل کر دعا کرتے کہ سلمان رشدی کے علم میں اضافہ ہو اور اسے حقیقت کا ادراک ہو سکے۔ خدا کی قسم اگر پوری دنیا میں اس کے لئے اجتماعی دعا کی تقریب منعقد کی جاتی تو یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رک جاتا۔
دوسری طرف میں یہ بھی سوچنے لگا کہ آزادی رائے ہے کیا؟ یورپ جسے آزادی رائے اور انسانی حقوق کا علمبردار سمجھا جاتا ہے وہاں بھی، آپ مذہبی منافرت، دہشت گردانہ سوچ، نسلی عصبیت یا یہودیوں کے قتل عام سے متعلق کوئی بات نہیں کہہ سکتے (گو کہ ایسی بات کہنی بھی نہیں چاہیئے میری نظر میں، چاہے لاکھ طرح کی آزادی ہی حاصل کیوں نہ ہو) اگر کوئی من چلا سڑک پر بغیر لباس کے چلنا شروع کرے تو اس گرفتار کر لیا جاتا ہے، سڑک پر ایک حد تک کی ہی حرکات کی اجازت ہے، تو جناب یہ بھی تو فریڈم آف ایکسپریشن ہے، اجازت دے کیوں نہیں دیتے؟ کیا یہ دوہرا معیار ہے؟ یا ہم ہی یہ بات انہیں سمجھا نہیں پا رہے؟
پھر مجھے دکھ ہوا، میں اور میرے کئی دوست پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے، مذہبی انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے؟ ہم لوگوں کو باور کروا رہے تھے، نظمیں لکھ رہے تھے، سوالات کھڑے کر رہے تھے کہ مذہب کو کسی پھر ٹھونسنا نہیں چاہئے اور خیال رکھنا چاہئے کہ مذہب کو اب واقعی میں جنیرک سٹیمنٹس کی بجائے سپیسپفک عدسے سے دیکھنا پڑے گا۔ کئی مذہبی چیزوں کو نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور پرانے علماء کے فتووں کی بجائے، مل بیٹھ کر نئے زاویوں سے چیزوں کو از سر نو مرتب کرنے کی گنجائش ہے۔ بہت کوششوں کے بعد ہم نے دیکھا تھا کہ لوگ خاص طور پر نوجوان ہماری بات سننے میں دلچسپی لے رہے تھے، معاشرے میں دلائل اور سوالات کا ماحول پیدا ہو رہا تھا۔ ہم لوگوں کو سمجھا رہے تھے کہ اسلام عقل فہم اور علم و جستجو کے لئے سب سے زیادہ زور دیتا ہے۔ شعور و آگہی کے بغیر خدا کی پہچان ممکن ہی نہیں ہے اور اندھا ایمان کبھی اہل علم کے یقین کی طرح قابل تقریم نہیں ہو سکتا۔ مگر خاکوں کے اس واقعے کے بعد میرے وہ دوست جنہیں ہم نے کئی برسوں کی محنت کے بعد اس قابل کیا تھا کہ وہ سوچنے سمجھنے پر آمادہ دکھائی دیتے تھے، ایک مرتبہ پھر احتجاجی مظاہروں میں نعرے لگاتے ہوئے دکھائی دئے۔ ہماری برسوں کی محنت ضائع ہو گئی اور اس واقعے نے ہمیں ایک مرتبہ پھر تقریبا 20 برس پہلے کی حالت میں لوٹا دیا۔ میں سخت پریشان ہوں ، آپ میری مدد کیجئے۔۔ جون بھائی نے کہا تھا
یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کی؟ا
بولتے کیوں نہیں مرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟
آداب
عاطف توقیر

ارے ارےارے. ڈاکٹر نگہت صاحبہ.ذرا دیکھئے تو کوئی اجنبی سا لیکن شناسا سا نام ہے جس نے بلاگ لکھا ہے. کہیں کوئی بھول کر تو نہیں آ گیا فقیروں کے ڈیرے پر؟ ذرا اس پریشانی میں میری بھی کوئی مدد کرے
صفدر جی، بھول کر نہیں بلکہ یاد سے آیا ہوں۔ اس قدر بری طرح سے مصروفیات میں گھرا ہوا ہوں کہ آپ کیا بتاؤں۔ اسی لئی تو آپ سے مدد چاہی ہے 🙂
با خدا دیوانہ شو، با محمد ہشیار باش۔
بھئی آپ کی بات درست ہے کہ کسی نے شرارت کی اور آگ خود ہمارے ہی گھروں میں لگ گئی۔ اس لئے پہلا عقلی فیصلہ یہی تھا کہ فیس بک اور یو ٹیوب کو بند کردیا جائے۔ باقی جہاں تک سرکار رسالتمآب کی شان اقدس میں گستاخی کا پہلو ہے تو کفار و مشرکین پر حد شرعی تو لاگو نہیں ہوتی۔ تاہم مجھے اتنا معلوم ہے کہ حکم بن ابی لعاص اور اسکا پسر مروان مدینے سے اسی لئے نکالے گئےتھے کہ سرکار رسالتمآب کی شان میں گستاخی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انکو بد دعا بھی دی تھی۔ اللہ کو پسند نہیں کہ اس کے حبیب کو اذیت دی جائے۔ لیکن اگر آج ہم ان شرارتوں پر چپ سادھ رکھیں گے تو کل کو جب خانہ کعبہ پر جنگجو حملہ ہوگا تو تب بھی ہم اپنی املاک کے تحفظ کے لئے کیا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے؟ بھئی بین الاقوامی سیاست میں یہ تو فیلر اینڈ ریسپونس ہوتے ہیں۔ آج یہ لوگ فیلر دے کر ہمارا تماشہ دیکھتے ہیں اور کل کو اگلی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔
جنگ بدر کے قیدیوں میں ایک شخص کو جناب علی ابن ابیطالب علیہ السلام نے قتل کردیا تو صحابہ نے حضور سے کہا کہ کیا جنگی قیدی کا قتل روا تھا؟ جوابا حضور نے فرمایا کہ ہاں اس شخص کا قتل روا تھا کیونکہ علی (ع) نے یہ قتل توہین رسالت کے جرم کی سزا کے طور پر کیا ہے۔
ہمیں کسی طور بھی نبیء کریم کی ذات اقدس کی شان میں گستاخی قبول نہیں ہے، اور اسکو شرارت سمجھ کر در گزر نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں صرف ضروت اس امر کی ہے کہ ہم زندہ قوم بن کر اپنی ہی املاک جلانے کی بجائے ان قوموں سے علمی و سیاسی طور پر نبرد آزما ہوں۔ انکا مقاطعہ کریں اور برائی کو برائی کہیں۔ یہ شرارتیں صرف انکی شراتیں ہی نہیں، ہمارے ایمان کا امتحان بھی ہوتا ہے اور خدا کی سنت یہی ہے کہ اگر فرعون کو موسیٰ(علیہ السلام) کے ہاتھوں آزماتا ہے تو بنی اسرائیل کی آزمائیش فرعون کے سبب ہوتی ہے۔
یہ تو عشق کا امتحان ہے اور اگر ہم ناکام رہے تو خدا کی طرف سے کسی نصرت کی امید باقی نہیں رہنی چاہیئے اور پھر ذلت ہی ذلت ہمارا مقدر ہے۔
حضرت سلطان العارفین کا ایک بند پیش خد مت ہے؛
ایمان سلامت ہر کوئی منگدا عشق سلامت کائی ہو
منگن ایمان شرماون عشقوں میرے دل نوں غیرت آئی ہو
جس منزل نوں عشق پچاوے ایمان نوں خبر نہ کائی ہو
میرا عشق سلامت رکھیں باہو میں ایمانوں دیاں دہائی ہو
تیرے صدقے یا رسول اللہ۔ تیری نعلین کے صدقے یا رسول اللہ۔
توقیر تم یہاں ایک بات بھول رہے ہو کہ حضور اکرم (ص) کے زمانے میں اسلام ابھی مکمل طور پر پھیلا نہیں تھا .. لوگ نا آشنا تھے کہ ہمارا دین امن اور سلامتی کا ہے … کیا تم آج کے یہود نصاری کو اس صف میں رکھتے ہو .. میرے بھائی وہ کمبخت ہمارے اسلام کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں ..
وہ جانتے ہیں کہ ہم اپنے حضور اکرم نبی پاک کی شان میں ایک لفظ گستاخی کا نہیں سن سکتے اور نہ برداشت کر پائیں گے … پھر یہ ہماری دل آزاری کیوں … ؟ میرے اچھے بھائی وہ یہ بھی جانتے ہیں ک ہہم حضرت عیسی کو مقابلے میں برا نہیں کہہ سکتے کہ ان کو ماننا بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے .. کبھی دیکھا تم نے کسی ہندو کسی سکھ نے ایسا کیا ہو … ؟ کیوں … اس لئے کہ ان کو مسلمانوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا اور پھر جو سچ ہے وہ سامنے آئے گا …
سنو سلمان رشدی جیسے ملعون کے لئے دعا کیسی … سلمان رشدی پہلے تو خود یہودیوں کے ہاتھ بھاری قیمت پر بکا .. پھر اسے ایک خآص مقصد کے تحت مشہور کیا گیا … پھر اسے میڈیا چینیل نے اچھالا تھا .. بھائی اسے انگریزوں نے اچھالا تھا .. مسلمانوں کو پوچھ کر دیکھو کتنوں نے وہ کتاب پڑھی ہے … اور کتنوں نے اس کو اہمیت دی تھی … میرے شہزادے اسے صرف یہودیوں نے اہمیت دی .. جب قران میں آگیا کہ یہودی ہمارے کھلے دشمن ہیں تو ان سے دوستی کیسے نبھ سکتی ہے …
فلسطین ہو کہ عراق ، افغانستان ہو کہ پاکستان …. آخر ہر بار مسلمان ہی کیوں ؟؟
پتہ کیوں میرے بھائی … کیونکہ انہوں نےجدت پسند قلمکاروں . دینداروں .. دانشوروں کو جنیرک سٹیمنٹس کی بجائے سپیسپفک عدسے کی فلاسفی سیکھا دی ہے …
بےشک میرے نبی پاک کو ان ناپاک باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن میرے بھائی ہماری آخرت کا کیا ہو گا جو ہم ناموس رسالت کی حفاظت نہ کر پائے … ارے ہم تو وہ بدنصیب مسلمان ہیں جو چوروں کے ڈر سے روپیہ زیور تو بنکوں میں رکھ دیتے ہیں … لیکن اپنی پہچان ،اپنے دین .. کو دشمنوں کے حوالے کر کے سکون سے سو جاتے ہیں …
ہماری اس بزدلی پر ہماری آنے والی نسلیں احتجاج کریں گی جب وہ اپنے دوستوں کو فون کر کے پوچھیں گی کہ مذہب کے خانے میں کیا لکھیں ؟
سبحان اللہ عاطف توقیر صاحب! آپ کی نثر بھی آپ کی نظم کی طرح گہری اور پُر حکمت ہے۔مجھے آپ کے خیالات سے سو فی صد اتفاق ہے۔آپ نے اپنا نکتہِ نظر بہت ہی جچے تلے الفاظ میں بیان کیا ہے۔کاش کہ ہم لوگ جوش کی بجائے ہوش سے کام لیں اور ہمارے پیارے نبیِ کریم ﷺؐکا اسوہِ حسنہ ہمارے قول و فعل کا حصہ بن جائے اور ہمارا ہر عمل گواہی دے کہ ہم کس عظیم پیغمبر کے ماننے والے ہیں
ہم دین کے ٹھیکے داروں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کی بجائے تدبر اور تحمل کی راہ اپنائیں اور اپنی جتنی انرجی مرنے مارنے پر صرف کرتے ہیں اسی انرجی کو اپنا کردار بہتر بنانے پر صرف کریں
باجو، آپ بھی دست کہتی ہیں اور مصباح جی آپ بھی، مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اس عمل سے نتیجہ کیا نکلہ، کیا وہ خاکے حٖذف کر دئے گئے۔ کیا اس قلم کار کو کوئی سزا دی گئی، کیا آئندہ یہ عمل نہیں ہو گا۔ بے شک ایسے کسی عمل سے تمام مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ ایسا عمل کر کے مسلمانوں کو بھڑکا کر پوری دنیا میں اسلام کا امیج خراب کیا جا رہا ہو۔ مذہب کوئی بھی ہو فریڈم آف سپیچ سے کب روکتا ہے خاص طور پر اسلام تو سب سے زیادی فریڈم دیتا ہے۔ مگر مسلئہ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر چند انتہا پسند تمام مسلمانوں کی رہنمائی کیوں کرنے لگ جاتے ہیں۔ مسئلہ ایک یہ بھی ہے کہ حضور کے ایسے خاکے بنانا جن سے یہ ظاہر کیا جائے کہ نعوذباللہ ہمارے حضور کسی دہشت گردانہ تعلیم کا منبع تھے اور یہ کہ ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان سب دہشت گرد ہیں یہ کیا ثابت کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ دہشت گرد تو تقریبا تمام ہی معاشروں میں ہو سکتے ہیں۔ دہشت گرد کا کوئی مذہب کب ہوتا ہے۔ کراچی میں اگر ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے یا آئرلینڈ میں آئرش ریپبلکن آرمی کی کاروائیاں، بھارے میں انتہا پسندوں کا بلوہ ہوتا ہے یا چین میں ایغور نسل باشندوں پر حملے ہمیں مذہب کی عینک کی بجائے معاشرتی رویوں کی عینک سے دیکھنے کی ضرورت ہے شاید۔
مجھے سمجھ یہ نہیں آتا ایسے مواقع پر او آئی سی کہاں مر جاتی ہے۔ یہی تو مواقع ہوتے ہیں جب حکومتوں کو یہ احتجاج لوگوں پر چھوڑنے کی بجائے مل بیٹھ کر کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔
عرشی آپا میں آپ سے پوری طرح متفق نہیں ہوں کہ ہم دین کے ٹھیکے داروں کے ہاتھوں میں کھلونا بننے کی بجائے تدبر اور تحمل کی راہ اپنائیں اور اپنی جتنی انرجی مرنے مارنے پر صرف کرتے ہیں اسی انرجی کو اپنا کردار بہتر بنانے پر صرف کریں.. تحمل کیسا آپا ۔۔ اگر ہر بات میں تحمل کا ہی حکم ہوتا تو حضور اکرم خود کیوں اعلان جنگ فرماتے ۔۔۔ اسلام میں جنگیں کیوں ہوتی ۔۔ کربلا کیوں برپا ہوتی ۔۔۔ میں تو بس ا اتنا جانتی ہوں اور اپنے بھائی مصباح بھائی کی طرح یہی درست سمجھتی ہوں کہ ہمیں کسی طور بھی نبیء کریم کی ذات اقدس کی شان میں گستاخی قبول نہیں ہے، اور اسکو شرارت سمجھ کر در گزر نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں صرف ضروت اس امر کی ہے کہ ہم زندہ قوم بن کر اپنی ہی املاک جلانے کی بجائے ان قوموں سے علمی و سیاسی طور پر نبرد آزما ہوں۔ انکا مقاطعہ کریں اور برائی کو برائی کہیں۔ یہ شرارتیں صرف انکی شراتیں ہی نہیں، ہمارے ایمان کا امتحان بھی ہے .
مجھے ایک سوال ہمیشہ ستاتا ہے۔ ہم عظیم قوم بھی ہیں، ہمار نظریہ بھی ٹھیک ہے، ہمارا ماضی بھی شاندار ہے، خدا بھی ہمارے ساتھ ہے، ہم ڈیڑھ ارب بھی ہیں اور ہم ذلیل بھی ہو رہے ہیں۔ کہیں تو درستی کی گنجائش موجود ہے۔ ہمیں بہت سی چیزوں میں اصلاح کرنی ہی ہوگی۔ اگر مغرب سازش کرتا ہے تو اس لئے نا کہ ان کے پاس بڑے دماغ ہیں۔ آپ تمام لوگ مل کر ایک سازش کر کے دکھا دیں۔ بات یہ ہے کہ اس عہد میں کسی بھی قوم کی سبقت کا تمام تر انحصار اس قوم کے افراد میں پائے جانے والی ذہنیت اورعلمی استعداد سے ہو سکتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے کئی صدیوں سے کوئی ایک بھی بڑا دماغ پیدا نہیں کیا۔ پورے عالم اسلام میں کتنی جماعات ہیں جناب، پورے عالم اسلام میں موجود یونیورسٹیوں کی تعداد یورپ کے کسی چھوٹے سے ملک میں موجود جامعات کی تعداد سے بھی کم ہوں گی۔ آپ ایک فلسفی بتا دیجئے جس نے دنیا کو کوئی نیا نظریہ دیا ہو، جس نے دنیا پر اثرات چھوڑے ہوں، جب تک آپ ایسا کر رہے تھے آپ رہنما تھے، جب ہم نے ایسا کرنا چھوڑ دیا تو ہم ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ جس تابناک ماضی کی ہم بات کر رہے ہیں اگر ہم عصبیت کی عینک اتار کر اسے دیکھیں تو اس میں بھی نظرآئے گا کہ امارت اسلامی صرف چند برسوں تک اپنے اصل فلسفے کے ساتھ رہ پائی تھی، اس کے بعد پھر ملوکیت ہی تھی، بنو امیہ،، بنو عباس، مغل سلطنت، خلافت عثمانیہ کیا اسلامی تھیں؟ ایک خآندان کی حکومت کیا تمام مسلمانوں کی حکومت تھی؟ اور یہ بتائیں یہ غداد پیدا کرنے کا ٹھیکا ہمی نے کیوں لے رکجھا ہے، ہمارے ہاں فرد اور ریاست کا مفاد الگ الگ کیوں ہے؟ حضور آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کے علاوہ شاید کوئی اکا دکا اسلامی ملک ہو گا، جس نے ٹھیک سے پروٹیسٹ بھی کیا ہو گا اس معاملے پر۔
دیکھو عاطف میرے بھائی تم ایسا کیوں نہیں سوچتے کہ اس بار یہ احتجاج اتنا شدید اور پر زور کیا جائے کہ دوبارہ ان کی ہمت ہی نہ ہو … ہم کو اپنا فرض نبھانا ہے .. ہم سے ہمارے عمل کی پرسشش ہے .. مجھ سے او آئی سی کے کسی بندے کا حساب نہیں لیا جائے گا … سوچو آج ہم سب ایک ہو کر اپنی سوچوں اور اپنے ایمان کی طاقتیں اکھٹی کر لیں تو کیا یہ ہمارے سامنے ٹھہر سکیں گے … نہیں میرے بھائی ہر گز نہیں … مولا علی کی قسم ہر مسلمان میں سے ایک علی نکلے گا اور خیبر شکن ہو گا … یہ طے ہے کہ ہم اپنے نبی پاک کی شان میں ایک لفظ برداشت نہیں کریں گے … ایسا کرنے میں ہی ہماری حیات اور نجات ہے ..
بہت کڑا موضوع ہے مجھ جیسا کم علم تو اس میدان میں داخل ہونے سے بھی لرزاں ہے. بس ایک بات یاد رکھیں ہمارے لوگ اکثر یہ نہیں سمجھتے کہ جب ہم ناموس رسالت کی بات کرتے ہیں تو اس سے مرآد قطعی طور پر صرف اللہ کے آخری رسول نہیں بلکہ تمام نبی رسول اور خاص طور پر حامل شریعت رسل ہیں جن میں حجرت عیسیٰ و موسیٰ بھی شامل ہیں. اب رہی بات کارٹون کی تو یہ کارٹونوں کی اولادیں صرف اللہ کے حبیب کے ساتھ ہی یہ نہیں کر رہے بلکہ جو جو حضرت عیسیٰ کے ساتھ کرتے ہیں. نعوذ باللہ. آج کل تحقیق ہو رہے کہ حضرت عیسیٰ نعوذ باللہ ہم جنس تھے.
میں کبھی حیران ہوتا ہوں کہ ہم میں سے ہر آدمی ناموس رسالت پر تو جان دینے کو تیار ہے لیکن فرمان رسالت پر عمل کو تیار نہیں. جب ہم نے خود اپنے کو ایسی کسی صورت حال کے لیئے تیار ہی نہیں کیا تو پھر پنجہ آزمائی کیسے ہو گی.
یاد رکھو فکری لڑائی اسلحے کی لڑائی سے زیادہ طویل اور زیادہ دیر پا ہوتی ہے لیکن فکر کو مفقود ہے
میں تو یہ پوچھتا ہوں کہ مسلمان اسوقت کہاں ہوتے ہیں جب یہی لوگ اللہ کی شریعت کے حامل عیسٰ و موسیٰ کا مزاق اڑاتے اور انکی کارٹون فلموں کے ساتھ انکی سیکس لائف پر فلمیں بناتے ہیں؟ بھائیو بہنو اور سجنوں مترو سوچو. سوچنے پر کوئی خرچ نہیں کوئی مول نہیں
عاطف یہی تو ایمان کی کمزوری ہے .. احساس کمتری ہے جس کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے … لیکن اس کم علمی کی سزا ہم خود کو بزدل بنا کر یا سمجھ کر نہیں دے سکتے نا … ہمیں اس علم کو عام کرنا ہے .. اس سوچ کو .. اسلام کی اصل فلاسفی کو سب کے سامنے لانا ہے .. لیکن اس طرح سے نہیں .. بھلا ہم اپنے ایمان کی قیمت پر کسے بچا پائیں گے ..
بابا ان ان فلموں اور کارٹوں پر ان کا فکری اور شعوری طبقہ بھی احتجاج کرتا ہے ..اب یہ الگ بات ہے کہ اسے اتنی ہوا نہیں دی جاتی … ہم مسلمانوں کے ساتھ ہر عمل ایک گہری سازش سے کم نہیں ہوتا … آپ نے درست کہا کہ فکری لڑائی اسلحے کی لڑائی سے زیادہ طویل اور زیادہ دیر پا ہوتی ہے … اس لئے تو یہی کہہ رہی ہوں کہ ہمیں اسلام کی اصل فلاسفی سے آگہی مطلوب ہے ..
ہم عظیم قوم ہیں؟
پدرم سلطان بود سے کام نہیں چلے گا. اللہ کے لیئے کوئی مجھے جھوٹا تو ثابت کرے کہ مسلمانوں نے پچھلے 500 سال میں جھوٹ ،نفرت،عوام دشمنی، انسان کشی اور بدعنوانی کے علاوہ کوئی ایجاد کی ہے؟ ہمیں شرم ہو تو بجلی کے بلب کی روشنی میں نہ بیٹھیں،ٹیلی فون استعمال نہ کریں،جہاز کی سواری سے اجتناب کریں. یا ارحم الرحمین. کہتے تو خود کو غلامان رسول ہیں اور عاشق رسول ہونے کا دعویٰ ہے لیکن مسلمانوں کے مجموعی ملکوں کا تعلیم کا تناسب ایک سری لنکا اور اتر پردیش کے برابر نہیں. اینٹ کا جواب اینٹ نہیں اور پتھر کا جواب پتھر نہیں.تعلیمات رسول کیا تھیں؟ غور کریں اس پر. فکر،غور،تدبر،فراثت درکار ہے.جزباتیت نہیں. پہلے ملاؤں اور مولویوں کے حصار سے خود کو نکلایں،علم حاصل کریں خود کو جدید علم سے لیس کریں اور پھر مقابلے کو نکلیں. حکمت عملی اور تیاری کے بغیر تو ڈرون کے سامنے بھی نعرہ تکبیر کے زور پر نہیں نکل سکتے یہ خود کشی ہے اور اسلام میں حرام
ہمدانی صاحب میں سو فیصد متفق ہوں آپ سے۔ پورے عالم اسلام میں موجود یونیورسٹیوں کی تعداد کسی چھوٹے یورپی ملک میں موجود جامعات کی تعداد سے بھی کم ہیں۔ اس دور حاضر میں تمام عالم اسلام کی کوئی ایک کونٹربیوشن بتائیے۔ کہیں کوئی ایک اسلامی ملک جہاں جمہورت ہو صحیح طرح سے، جہاں انصآف ہو، جہاں روٹی ہو، جہاں مساوات ہو، جہاں پدر شاہی نہیں ہو، جہاں کرپشن نہ ہو، جہاں سائنسدان ہوں، جہاں علمی بحث ہوتی ہو۔ سچ بتاؤں صفدر صاحب ہمارے ہاں بڑے بڑے مفکرین کی سوچ بھی کسی اوسط درجے کی انسان سے کم تر ہے۔ مجھے تو سمجھ یہ نہیں آتی کہ یہ یورپ یا مغرب کا بگاڑنے کیا چلے ہیں۔ جناب خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے، جس کے پاس علم ہوتا ہے۔ ہمیں مروا دیا خود کو عظیم قوم کہلاوانے نے۔ نہ اصلاح کی گنجائش نہ کوئی علمی اور عملی ترقی۔۔ انسان کرے تو کیا کرے
ہمیں پتا نہیں کس نے کب سے یہ پٹی پڑھا رکھی ہے کہ بیٹا یہ کائنات ترے لئے بنائی گئی ہے اور تو سب سے بہترین ہے۔ روٹی نہیں ہے تو کیا ہوا، انصآف نہیں ہے تو کیا ہوا، جاگیردار تیرے باپ کو جوتے مارتا ہے تو کیا ہوا، تیرا بادشاہ اول درجے کا عیاش ہے تو کیا ہوا۔ ہم بہت عظیم قوم ہیں بیٹا۔ تو خدا نے تجھے سب سے اچھا بنایا ہے اور تیرے پاس سب سے بڑی دولت ہے۔ تو کرپشن کر، تو بھی لوگوں کا مال کھا، تو لوگوں کے گھروں سے چوریاں کر، لوگوں کی عزت اور آبرو سے کھیل۔ جانا تو تجھے جنت ہی میں ہے۔ جناب یہ لارے بہت ہو چکے۔ خدا کا واسطہ ہے سیدھی راہ اپنائیں اور علم حاصل کریں۔ غصہ صرف اسے آتا ہے جس کے پاس علم نہیں ہوتا۔
عاطف تم نے کتنی دردناک حقیقت لکھ دی ” ہمارے ہاں بڑے بڑے مفکرین کی سوچ بھی کسی اوسط درجے کی انسان سے کم تر ہے” … تم سے سو فیصد متفق ہوں اور تمہارے غم میں برابر کی شریک ہوں …
یہی دردناک سچ ہے باجو۔ علم کی اشد ضرورت ہے تمام مسلمانوں کو۔ یہی ایک طریقہ ہے، جس سے آپ کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپ بھیجیں نا کسی بندے کو کسی یورپی ملک میں ہونے والی کسی بحث میں۔ کیا نمائندگی ہو رہی ہے مسلمانوں کی۔ نمائندگی نہیں شرمندگی ہوتی ہے ایسے لوگوں کی باتیں سن کر۔ منطق کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا ایسے لوگوں سے۔
وہ ہمارے خالد مسعود صاحب کا مصرع ہے
دانشور کا دانش سے ہے اٹ کتے کا بیر۔
تو سچ یہی ہے۔ کارٹون بنتے رہیں گے۔ خاکے بھی بنیں گے۔ ہم احتجاج کرتے رہیں گے۔ چیزیں توڑتے رہیں گے۔ علمی بحث ہو گی نہیں ۔ خلیج بڑھتی رہے گی۔ تمام انسان برابر ہیں اور علم کسی کی میراث نہیں۔ جو اسز حاصل کرز گا یہ اسی کا ہے۔ اور علم جس کے پاس ہے کائنات اسی کے لئے مسخر ہے۔ ڈفلی بجانے سے کام نہیں چلے گا۔
ایسی آزادی اظہار رائے جس سے ایک قوم کے ڈیڑھ ارب سے زائدلوگوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوتے ہوں ‘ اس کی اجازت نہ تو کوئی مذہب دیتا ہے اور نہ ہی کسی ملک کا دستور ۔ جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے تو اس کا دستور ہی دنیا سے نرالا ہے۔ وہ چونکہ مسلمانوں سے سخت پرخاش رکھتا ہے اور انہیں ستانے کا کوئی موقع ہاتھوں سے جانے نہیں دیتا اس لئے اس کے لئے مسلمانوں کے نبیۖ کی توہین ایک عام بات ہے لیکن امریکہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمان اس طرح کی ناپاک جسارت کو برداشت نہیں کرسکتے اور جب بھی ایسی کوئی جسارت ہوگی تو اس کے خلاف شدید ردعمل ہوگا۔
کیا یہ حقیقت صرف نظر کی جاسکتی ہے کہ جب
ہولو کاسٹ کے حوالے سے جب ایرانیوں نے ترکی بہ ترکی جواب دینا شروع کیا تھا تو اس وقت امریکہ کو تکلیف کیوں ہوتی تھی؟ ایک ایسے ملک کے لوگ آزادی اظہار رائے کو کیا جانیں جہاں نواسہ نانی سے شادی کرکے دھڑلے سے اپنے اس مکروہ عمل کا دفاع بھی کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک کی حکومت آزادی اظہار رائے اور بنیادی انسانی حقوق کو کیا سمجھے جہاںکلبوں میں عورتوں کو ننگا کرکے نچایا جاتا ہے اور سینکڑوں ہزاروں لوگ اس برہنگی کا تماشہ دیکھتے ہیں۔ ایک ایسے ملک کو آزادی اظہار رائے کا کیا پتہ جہاں ہم جنس پرستوں کے جلوس نکلتے ہوں اور سڑکوں پر اخلاق باختگی کے مظاہرے ہوتے ہوں۔ امریکہ تو وہ ملک ہے جو اخلاقیات و اقدار سے بہت پہلے دامن چھڑا چکا ہے لیکن خدا کا شکر ہے کہ ایشیا کے لوگ آج بھی بڑی حد تک اپنے کلچر اور مذہبی اقدار کا خیال رکھتے ہیں۔
ان ممالک میں پاکستان کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ یہاں کے لوگ اپنی سماجی اور دینی روایات کے ساتھ سختی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ نہ کسی کی دل آزاری کرتے ہیں اور نہ کسی کو اپنی دل آزاری کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ امریکہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس نے آٹھ سال تک ترقی پسندی اور روشن خیالی کا جو کلچر جنرل (ر) پرویز مشرف کے ذریعے پاکستان میں پھیلانے کی سعی کی تھی وہ پاکستانی عوام نے مسترد کر دیا ہے اور اسلامی اقدار پر جب بھی امریکہ یا مغرب سے کوئی حملہ آور ہوگا تو سب سے زیادہ احتجاج پاکستان میں ہوگا۔ سب سے توانا آواز پاکستان سے اٹھے گی۔
ایک انٹرنیٹ پر ہی کیا موقوف اگر اپنی مذہبی اقدار کو سلامت رکھنے کے لئے پاکستانی عوام کو کیبلز کٹوانا پڑیں تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ اگر اس حوالے سے ہمیں انتہا پسند کہا جائے گا تو ہم خوشی سے یہ لیبل خود پر لگوالیں گے کیونکہ ہمارے لئے اپنے رسولۖ کی عزت اور حرمت سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں۔ ہم اپنے رسولۖ کی حرمت کے نام پر اپنی گردنیں کٹواسکتے ہیں ۔ اپنے بال بچے اور مال قربان کرسکتے ہیں۔ نبی مکرمۖ کی محبت ہمارے خون میں رچی ہوئی ہے۔ کوئی ہمارے ٹکڑے ٹکڑے کر دے تب بھی ہمیں عشق رسولۖ سے نہیں روک سکتا۔ وہ (محمدۖ رسول اللہ) ہمارے لئے کیا درجہ رکھتے ہیں۔
امریکہ اور مغرب کبھی نہیں جان سکیں گے کیونکہ مادہ پرستی نے ان کی آنکھیں اندھی کر دی ہیں۔ ان لوگوں کے نزدیک رسولۖ برحق ساڑھے چودہ سو سال پہلے اس دنیا سے تشریف لے جاچکے ہیں لیکن ہمارے نزدیک وہ ہر مسلمان کے دل میں زندہ و جاوید ہیں۔ ان کا نام سامنے آئے تو ہمارے دلوں کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ ان کا خیال آئے تو ہماری آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ د نیا اس بات پر خوش ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں رہ رہی ہے لیکن ہم اس بات پر رنجیدہ ہیں کہ ہماری آنکھیں نبیۖ کے چہرہ انور کا دیدار نہ کرسکیں۔ ہمارے نبیۖ کے مقابلے میں اس دنیا کی ساری چکا چوند ہیچ ہے۔ وہ ہمارے انگ انگ میں بسے ہوئے ہیں۔ ہمارے خوابوں کے ہر رنگ میں بسے ہوئے ہیں۔ ان جیسا تو کسی ماں نے جنا ہی نہیں اور ان جیسا تو کسی آنکھ نے دیکھا ہی نہیں۔ وہ اپنی زندگی میں کسی ساتھی کو آواز دیتے تھے تو وہ صدقے یارسول اللہ کہتا ہوا اپنے کام ادھورے چھوڑ کر بھاگا آتا تھا۔ ان کی محبت میں مائوں نے اپنے جواں بیٹے قربان کر دیئے’ ان کی محبت میں خواجہ اویس قرنی نے ایک ایک کرکے اپنے سارے د انت توڑ دیئے کیونکہ انہیں معلوم نہ تھا کہ جنگ احد میں نبیۖ رحمت کے کون سے دانت شہید ہوئے تھے۔
یہ اس لئے گستاخ ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہی نہیں کہ یہ کس کی شان میں گستاخی کر رہے ہیں۔
یہ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں کوئی ان جاہلوں کو بتائے کہ فتح مکہ کے بعد جبکہ خدا اور رسولۖ کا ہر دشمن اللہ کے آخری نبیۖ کے نشانے پر تھا تو رسولۖ رحمت نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا۔ سب کو معاف کر دیا تھا۔ حتیٰ کہ ہندہ نامی اس خاتون کو بھی جس نے درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے اپنے غلام سے حضورۖ کے چچا حضرت حمزہ کو شہید کرایا اور پھر ان کا سینہ چاک کرکے کلیجہ دانتوں سے چبایا ‘ معاف کرنے کے بعد فقط یہ فرمایا کہ اس خاتون سے کہہ دو میرے سامنے نہ آیا کرے کیونکہ ایسا ہوا تو مجھے اپنے چچا حمزہ یاد آجایا کریں گے۔ یہ سب تو اللہ کے نبیۖ کے تعارف کی ہلکی سی جھلک ہے وہ تو مجسم محبت و رحمت تھے۔ ان کے ماننے اور ان کے چاہنے والے بھلا کب یہ گوارا کرسکتے ہیں کہ کوئی ان کی ذات اقدس کے بارے میں ایک ہلکا سا نازیبا لفظ ہی زبان سے نکالے۔ اے دنیا بھر کے مسلمانو! اپنے مقام کو پہچانو اور اس پیغام کو دنیا تک پہنچائو جو تمہیں طاقوںمیں سجا کر رکھنے کے لئے نہیں دنیا میں پھیلانے کے لئے نبی اکرمۖ سونپ گئے تھے۔ ان لوگوں کو بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے کن صفات کی وجہ سے ہمارے نبیۖ کو ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا سردار بنایا تھا۔
یہی تو پہچان ہے عالمی اخبار کے پلیٹ فارم کی کہ یہاں بحث برائے بحث نہیں ہوتی بلکہ ایک علمی مقالمہ ہوتی ہے .. یہ طے ہوا کہ ہمیں اس فکر کے بیج آج ہی بونے ہیں کہ بلا تفریق ہم سب کو علم حاصل کرنا ہے اور اسے اپنی نسلوں تک پہچانا ہے تاکہ جو مقابلہ ہماری نسل نہیں کر سکی وہ کر سکے .. آنے والی نسل اپنے حصے کے شجر اگا سکے .. .. سنو برے کو برا کہنا بھی علم ہی تو ہے … جو ہم احتجاجا کارٹون اور خاکے بنانے والوں کو کہہ رہے ہیں .اور یہ تو ایمان کا سب سے ادنی درجہ ہے ..اور ہمارا علم ایمان ہی شروع ہوتا ہے ..
آغا جی، آپکی بات درست کہ یہ لوگ تو خود مسیح علیہ السلام تک کے کارٹون بنا چکے اور انبیا ئے ما سبق پر فلمیں بنا چکے ہیں۔ اور تو اور خود خدا پر بھی کارٹون و لطیفے موجود ہیں۔ لیکن اصل بات پس پردہ محرکات اور سوچ کی ہوتی ہے۔ آج دنیا بھر میں کوئی شخص خدا نخواستہ اگر جناب موسی، یعقوب، داؤد اور سلیمان علیھم السلام کے اسی نظرئیے کے ساتھ کارٹون بنائے جن کے ساتھ ذات والا سرکار نبیء کریم کے کارٹون بنائے جا رہے ہیں، تو دیکھئیے گا کہ یہودی کسطرح زند قوم کی طرح ایسے شخص کے ہاتھ کاٹ دیتے ہیں۔ کوئی جراءت کرے تو ہندوستان کے مذھبی پیشواؤں کی توہین کی؟
مسلمان کا تو مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم تو چودہ سو برس سے توہین رسالت پر خاموش بیٹھے ہیں۔ جس منبر پر رسول اللہ بیٹھا کرتے تھے، اسی پر ولید بن عتبہ، مروان بن الحکم، ھشام بن عبد الملک اور بد ترین عباسی خلیفہ متوکل مسند نشین رہے ہیں۔ ہم نے چودہ سو برس سے اسی حجاج بن یوسف کو اپنا ہیرو بنا کر پیش کیا ہے جس نے خانہ ء کعبہ کی دیواریں اپنی منجنیقوں سے چھلنی کر دی تھیں۔ یہی وہ توہین رسالت تھی، جس کے نتیجے میں مغرب خود رسالتمآب کی گستاخی کر رہا ہے۔ لیکن کبھی تو، کسی کو تو کسی عہد میں جاگنا ہوگا۔ جو پچھلوں نے کیا، اسکا خمیازہ اب تک ہم بھگت رہے ہیں ، کاش کہ کل کی نسل کو ہم اسلام کی شکل دکھا کر جا سکیں۔
اگر ماضی میں ہم نے یہ بد تمیزی روا نہ رکھی ہوتی تو شاید آج یہ نہ ہوتا اور اگر آج یہ روک لیں گے تو کل کو کچھ اور نہ ہوگا۔ ہمیں پنا فکری اور عملی راہ معین کرنا ہوگا۔ میں نے پہلے ہی کہا کہ ضروت اس امر کی ہے کہ ہم زندہ قوم بن کر اپنی ہی املاک جلانے کی بجائے ان قوموں سے علمی و سیاسی طور پر نبرد آزما ہوں۔ لیکن کیا اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم ان توہین آمیز کوششوں کو بصد خاموشی برداشت کر لیں۔ ایک پڑھا لکھا اور کمزور ترین تحریر احتجاج تو کم از کم کیا جا سکے تا کہ کل کی نسل کو معلوم ہو کہ ہماری فکر کی جڑیں کہاں سے ہو کر آتی ہیں۔ ہمیں سائینس و ٹیکنالوجی میں علم حاصل کرنی کی ضروت ہے تو ساتھ ساتھ بین الاقوامی سیاست سمجھنے کی بھی۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس وقت کیا کچھ منصوبہ بندی ہو چکی ہے اور ہمارے گرد گھیرا کس قدر تنگ ہے۔ اب ہم علمی میدان میں ان اقوام کے مقابلہ تب تک نہیں کر سکتے جب تک ہم رموز سیاست سے آگاہ نہ ہوجائیں۔ ہمیں وحدت ملی کی طرف آنا ہوگا اور اپنی آواز کو ایک کرنا ہوگا۔
توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کسی طور بھی درست نہیں ہے، نہ ہم دہشت پھیلانے کو انسانیت سمجھتے ہیں۔ لیکن آج اگر ہم محض خاموش تماشائی بنے رہیں تو ہم کس فکر کی تعمیر کریں گے اور کس علم کے کسب پہ مائل ہیں؟ آپ جانتے ہیں کہ میں ملا نہیں ہوں اور نہ ہی جذباتیت کا قائل ہوں کہ اس سے درست فیصلوں کی راہ مسدود ہو جاتی ہے۔ لیکن شاتم رسول کو خاموشی سے برداشت کرنا روشن خیالی ہے اور نہ ہی علمی، ادبی و فکری سوچ کی غمازی۔ ہمیں اسی فکر کو تو پروان چڑھانا ہے کہ ہم احترام رسول (ص) کو بہر حال مقدم جانتے ہیں اور اس پر کوئی سمجھو تہ نہیں، حتٰی کہ خود اپنے ماں باپ اور اولاد کے لئے بھی۔
امام علی (ع) کا فرمان ہے کہ ان الیتیم یتم العلم و الادب، کہ یتیم وہ ہے جو علم و ادب کے قرینوں سے یتیم ہو جائے۔ جس احترام رسالت کو صحابہ کبار اور امام علی (ع) جیسی ہستیاں ہمیں سکھا گئی ہیں، ہمیں تو اسی طرز پر چلنا ہے، کیونکہ سنت رسول کو ان سے بہتر تو کوئی نہیں جانتا۔
ہمیں اپنا اسوہء، اسوہء حسنہ کی طرز پر تعمیر کرنا ہے، اسکا مطلب یہ کہاں سے نکل آیا کہ ہم ان خاکوں کو بھی برداشت کر لیں۔ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللّہ لَھمْ عَذَابٌ الِيمٌ (التوبہ آیت٦١ ) کہ جو نبی کو ایذا دیتے ہیں انکے لئے دردناک عذاب ہے۔ یہ تو سنت الٰہیہ ہے کہ دشمن رسول سے بیزارگی اختیار کریں، اس کو کسطرح سے ترک کیا جاسکتا ہے؟
جو فکر قرآن و سنت کی راہ سے جدا ہو، ہمیں اس فکر سے کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہیئے ، چاہے کس قدر ہی روشن و خوبصورت کیوں نہ نظر آ جائے۔
ہمیں صبر، عقل اور برداشت جیسے لفظوں کی حقیقت معلوم ہے، لیکن توہین رسالت پر خاموشی کو کسی طور بھی جائز نہیں سمجھا جا سکتا۔ میں نے تو پہلے ہی کہا کہ ہمیں اپنی املاک جلانے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن کیا ان لوگوں کا مقاطعہ تک نہ کرنا ایمان کی کمزوری نہ ہوگا؟
ہمیں دشمان رسول ( چاہے کسی ملت سے ہوں) ان سے شدید نفرت ہے اور اسکا اظہار کم از کم درجہء ایمانی ہے، جس پر میں ہوں۔
بھئی احمد ترازی زندہ باد۔ میں آپ سے متفق ہوں ۔ آپ کے اس جملے نے نمناک کر دیا کہ “د نیا اس بات پر خوش ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں رہ رہی ہے لیکن ہم اس بات پر رنجیدہ ہیں کہ ہماری آنکھیں نبیۖ کے چہرہ انور کا دیدار نہ کرسکیں۔ “
احمد بھائی میری خوش نصیبی کہ آپ نے مجھے اپنی بہن ہونے کا شرف دیا .. میں یہ پڑھ پڑھ کر رو رہی ہوں کہ “د نیا اس بات پر خوش ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں رہ رہی ہے لیکن ہم اس بات پر رنجیدہ ہیں کہ ہماری آنکھیں نبیۖ کے چہرہ انور کا دیدار نہ کرسکیں۔ “
مصباح تمہاری ہمیشہ خوبی تمہارا استدلال اور زبان ہے جو تہماری پرداخت کا حصہ ہے.تمہارے کسی ایک لفظ سے اختلاف نہیں،ہاں اضافہ ضرور کرؤں کہ جو قوم اپنے ہادی و رہنما کا خود مذاق اڑائے،جو نبی کی آل پر بہتان تراشے اور دشنمام دے،جو اللہ کے حبیب کی خاتون جنت بیٹی کو ایزا دے، جو قوم کربلا میں نواسہ رسول اور اسکے خاندان کو بھوکا پیاسا قتل کر ڈالے،جو قاتل 5 وقت اذان دے اور نماز پڑھے اور جن پر نماز اتری انکی آل کو ذبح کر دے.جس قوم کے ہیرو کربلا میں یہ کہیں کہ جگر گوشہ بتول حسین کو جلد ذبح کرؤ کہ عصر کی نماز نکلی جا رہی ہے،اس قوم کا تو پہلے گھر والے احتساب کریں. کتنے مسلمانوں نے 61 ہجری سے لیکر آج تک اپنے اندر ہونے والی اس توہین رسالت پر جلوس نکالے ہیں. میں یہ بات کر رہا ہوں تو فوری طور پر شیعہ گردی کا لیبل لگ جائے گا مجھ پر. ارے اللہ کے لیئے پہلے مسلمان خود اپنے اللہ کے حبیب کی انکی آل کی انکی جگر گوشہ بیٹی کی انکی اہلبیت کی توہین بند کریں پھر کسی کی طرف متوجہ ہوں.
جس طرح مجھے فریڈم آف ایکسپریشن کی تعریف سمجھ نہیں آتی اسی طرح مجھے توہین رسالت کی تعریف بھی بہت مشکل معلوم ہوتی ہے۔ جو آپ نے کہا اگر وہ سچ ہے تو پھر میرے خیال میں یہ تمام بحث، تمام احتجاج، تمام بندشیں سب کچھ فضول ہیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ٹھیک ہے جناب ہم بھی ماضی میں ایسا ہی کرتے رہے ہیں آپ بھی ایسا ہی کیجیے۔ دوسری بات جناب یہ مضمون لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ میں جاننا چاہتا تھا کہ اس مسئلے کا حل کیا ہو سکتا ہے تاہم میں اب تک کسی حل پر تو پہنچ ہی نہیں سکا۔ جناب ماضی کے حوالے دینے اور پر جوش باتیں کرنے سے ہمارے اظہار کا فن تو سب پر واضح ہوتا ہے مگر میرے خیال میں معاشرے کی کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔
مجھے حل صرف ایک ہی معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ علم حاصل کیجئے اور دنیا کی امامت کیجئے۔ جب ماضی میں ہم دنیا کی امامت کر رہے تھے تو ظلم ہم نے بھی کم نہیں کئے سو اس لیا اس رونے دھونے کا کوئی فائدہ نہیں، علم حاصل کرنے کے بعد جب دوبارہ اس مقام پر پہنچیں کہ دنیا کی رہنمائی کر سکیں تو اس وقت اصلاح کیجئے گا۔ جب تک برداشت کیجئے۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے۔ شاید آپ کو معلوم ہو کہ چنگیز خان نے مسلمانوں کے خلاف جنگ شروع کی کیوں تھی اور اس نے سب سے پہلز مسلمانوں کے تمام کتب خانوں کو برباد کیوں کیا تھا تو آپ کو واضح جواب مل جائے گا۔ جناب دلیل سے بڑی کوئی طاقت نہیں ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ طاقت سے بڑی کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔ کل تک ہم اس دلیل سے اپنی بات منواتے رہیں ہیں اب اگر یہ لوگ اسی دلیل کا استعمال کر رہے ہیں تو آپ بھی مان لیجیے۔ تمام مذاہب میں خدا کی ذات کو علم کا منبع سمجھا جاتا ہے سو اس تک پہنچنے یا اس کی قربت کے لئے بھی آپ کو یہی سیڑھی استعمال کرنا ہو گی۔ ورنہ دیتے رہئے ماضی کے حوالے اور گاتے رہئے اپنی عظمت کے گیت، دنیا کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔
نگہت باجی اور بھائی سید مصباح حسن میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں
باجی مجھے فخر ہے کہ آ پ نے مجھ جیسے بے علم کو اپنے بھائی ہونے کا اعزاز بخشا
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے
جناب بھائی عاطف توقیر صاحب
میں انتہائی ادب کے ساتھ آپ اس پیراگراف سے اختلاف کرتے ہوئے
’’مکہ کی ایک عورت جو حضور پر اپنے گھر کے قریب سے گزرنے پر کچرا اور نجس اشیا پھینکا کرتی تھے، اس کے خلاف حضور نے کیا کیا، یا حضور کے جاں نثار صحآبہ نے ایسے موقع پر کیا راستہ اختیار کیا۔ کہیں اس خاتون کو قتل تو نہیں کیا گیا، یا کہیں مکے کی گلیوں میں اس نہایت نازیبا حرکت پر کوئی احتجاج تو نہیں ہوا؟ تو نظرآیا کہ نہیں، ایک مرتبہ اس عورت نے حضور پر کچرا نہ پھینکا تو دریافت کیا کہ وہ عورت آج کہاں ہے؟ جب معلوم ہوا کہ بیمار ہے تو اس کی عیادت کے لئے اس کے گھر گئے اور اس کے حق میں دعا کی۔ طائف کی وادی میں حضور کو گالیاں دی گئی، پتھر برسائے گئے، نعوذ باللہ پاگل کہا گیا، انہیں ان گلیوں میں گھسیٹا گیا۔ اور وہاں سے باہر نکلنے پر اس لہولہال عظیم المرتبت پیغمبر نے اس بستی کو ویران کر دینے کی دعا کی بجائے اس بستی کے لوگوں کے حق میں، ان کے علم میں اضافے کی دعا کی۔ حضور نے کہا تھا اے اللہ انہیں معاف کردے کہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں علم عطا کر کے یہ حق و باطل میں فرق کر سکیں۔ بعد میں اسی علاقے سے تعلق رکھنے والے دو بڑے جرنیل خالد بن ولید اور عمروبن العاص ایمان بھی لائے اور اسلامی فتوحات میں حصہ بھی لیا۔ جن لوگوں نے مکہ میں حضور کی لئے زمین تنگ کر دی تھی انہیں فتح مکہ کے بعد معاف کر دیا اور اپنے سب سے بڑے دشمنوں کے گھروں کو دوسرے کے لئے جائے پناہ کا درجہ دیا گیا۔ یہ تو بڑی مثالیں ہیں۔ چھوٹی چھوٹی تو شاید لاکھوں مثالیں ہوں گی۔‘‘
یہ لکھنے کی جسارت کررہا ہوں کہ میں یہ مثالیں حضور کے عفو و گزر کی ہیں جو کہ ان کی ذات کے حوالے سے تھا لیکن جہاں حضور کی شان اقدس میں گستاخی اور بے ادبی کا معاملہ آتا ہے وہاں ان مثالوں کو دے کر کسی بھی شاتم رسول گستاخ اور بے ادب کو معاف نہیں کیا جاسکتا
اسلام کی پوری تاریخ میں ایسی ہزارہا مثالیں موجود ہیں جب گستاخان رسول کو امت نے حرف غلط کی طرح مٹادیا خود حضور کے دور سے لے کر صحابہ کرام تک تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے میں بطور معلومات یہاں دور جدید کی تاریخ سے چند مثالیں لکھ رہا ہوں
جب راجپال نے توہین رسالت کی تو ملت اسلامیہ کے شیر غازی علم دین شہید اس پر جھپٹا
جب رام گو پال نے سرو کائنات کی شان میں گستاخی کی تو غازی مرید حسین نے اسے راہی ملک نار کیا
جب سوامی شردھا نند نے ہذیان بکا تو غازی عبدالرشید نے اسے واصل جہنم کیا
جب نتھو رام کی دریدہ دہنی کو غازی عبدالقیوم نے اسے ابو جہل کے پاس پہنچایا
جب چنچل داس نے بکواس بکی تو غازی عبداللہ نے ایک ہی وار سے اس کا کام تمام کردیا
جب کیھم چند نے گبند خضرا کی اپنا گندھا منہ کھولا تو غازی منظور حسین نے اسے جہنم میں بھیج دیا
جب پالا مل نے اپنا متعفن منہ کھولا تو غازی محمد صدیق نے اسے موت کی وادی میں بھیج دیا
جب ملعون بھیشو نے ہرزا سرائی کی تو غازی عبدالمنان نے اسے موت گھاٹ اتارا
جب چرن داس نے بک بک کی تو غازی میاں محمد نے اسے ڈھیر کردیا
جب ویدا سنگھ نے اپنی بچھو جیسی زبان باہر نکالی تو غازی احمف دین نے اسے کچل دیا۔
جب ہردیا سنگھ نے قصر نبوت کی منہ کھولا تو غازی معراج دین اس کی زبان مڑوڑ دی
جب عبدالحق قادیانی نے زہر اگلا تو حاجی محمد مانک نے اس کو جہنم واصل کیا
اورجب نعمت احمر نے حرمت رسول پر حملہ کیا تو غازی فاروق نے اسے خاک و خون میں ملادیا
ان عظیم عاشقان رسول نے صحابہ کرام اور قرون اولی کے فنا فی اکرسول مجاہدین کو مخاطب کرکے کہہ دیا کہ
ہم آپ سے شرمندہ نہیں ہیں
ہم نے گلے میں غلامی کا طوق ہاتھوں کی ہھتکڑیوں اور پاوں کی بیڑیوں کے باوجود گستاخان رسول کے ساتھ وہی سلوک کیا جو آپ اپنے عہد میں کیا کرتے تھے
ہم نے اس کسمپرسی کے عالم میں بھی اپنے آقا سے بے وفائی نہیں کی
ان مجاہدین نے اپنے عمل سے دکھا دیا کہ
اے اہل دنیا دیکھو
ہمیں اپنے آقا اپنے والدین سے بھی زیادہ عزیزہیں
ہمیں اپنے آقا اپنے بچوں سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔
ہمیں اپنے آقا دنیا کی رعنائیوں اور دنیا کے مال و اسباب سے زیادہ عزیز ہیں
ہمیں اپنے آقا اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں
محبت خوب ہے غیرت مگر اس سے فزوں تر ہے
حضور میں مسکرا رہا ہوں اس وقت آپ کی ان تمام مثالوں پر۔ جناب میں مسلمان ہوں اور میری روح کے آخری پرت تک میں نبی خیرالزماں کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ آپ یہ کہتے ہیں کہ اکیسیوں صدی کے رہنے والوں کو حضور کا چہرہ انور دیکھنے کی سعادت نہیں مل سکی۔ میں کہتا ہوں جناب حضور صلی اللہ و علیہ وسلم کا چہرہ ان سے محبت کرنے والے کسی شخص کی نگاہوں سے ہٹتا ہی کب ہے۔ جناب یوسف (ع) کے حسن کو دیکھ کر مصر کی شہزادیوں نے اپنی انگلیاں کاٹ ڈالی تھیں۔ مگر محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کے وصال کے 14 سو برس بعد بھی کروڑوں افراد انہیں دیکھے بغیر ان کے نام پر اپنی گردانیں کٹوانے کو تیار ہیں۔ حضور کے مرتبے پر بحث کسے ہے۔
میں یہی عرض کر رہا ہوں جناب ہم نے کیا کیا بعد میں یہ تو سب دیکھ رہے ہیں۔ سوال ہی تو یہ تھا کہ حضور کے دور میں تو عفو درگز نظر آتا ہے اور ان کے بعد ایسی مثالیں۔
یہ جو مثالیں میں نے دیں یہ دور نبوت میں حضور کا اپنا طرز عمل رہا ہے۔ مدینے کا وہ یہودی جو موسی (ع) کو نبی کریم سے افضل کہتا تھا اس کے حوالے سے حضور کا رویہ کیا تھا۔ میں صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ عفو در گزر اصل میں بڑی قوموں کی نشانیاں ہوتی ہیں۔ مغربی معاشرز کی چند بری چیزیں ایک طرف مگر سچ یہ ہے کہ یہاں انصاف، روٹی، عزت، آزادی، سلامتی، امن ہر چیز ویسی ہے، جس کی بنیادیں اسلام کے آغاز میں رکھی گئی تھیں۔ مگر اگر کوئی شخص ہم جنس پرست ہے، اگر کوئی خاتون برہنہ رقص میں خوش ہے تو کیا ان مثالوں سے ان قوموں کے عقلی اور فکری مرتبے کو کم مایہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ حضور عظیم معاشرے وہی ہو سکتے ہیں جہاں فرد زیادہ سے زیادہ آزاد اور معاشرہ زیادہ سے زیادہ باشعور ہو۔
جناب عا طف صاحب
یہ کب کہا گیا کہ
’’کہ اکیسیوں صدی کے رہنے والوں کو حضور کا چہرہ انور دیکھنے کی سعادت نہیں مل سکی۔‘‘
اور جب آپ یہ کہتے ہیں کہ
’’جناب میں مسلمان ہوں اور میری روح کے آخری پرت تک میں نبی خیرالزماں کی خوشبو بسی ہوئی ہے۔ ‘‘
تو اس کے بعد یہ کہنا کہ
’’اگر کوئی شخص ہم جنس پرست ہے، اگر کوئی خاتون برہنہ رقص میں خوش ہے تو کیا ان مثالوں سے ان قوموں کے عقلی اور فکری مرتبے کو کم مایہ ثابت کیا جا سکتا ہے۔ حضور عظیم معاشرے وہی ہو سکتے ہیں جہاں فرد زیادہ سے زیادہ آزاد اور معاشرہ زیادہ سے زیادہ باشعور ہو۔‘‘
کیا معنی رکھتا ہے
ہماری ناقص سمجھ سے باہر ہے
ہر مسئلہ پر آزادئ رائے ہے بجز ہولو کاسٹ کے
جناب عاطف توقیر صاحب
یہ بڑا حساس موضوع ہے ہوسکتا ہے کہ جیسا آپ نے لکھا کہ
’’حضور عظیم معاشرے وہی ہو سکتے ہیں جہاں فرد زیادہ سے زیادہ آزاد اور معاشرہ زیادہ سے زیادہ باشعور ہو۔‘‘
آپ کے نزدیک درست ہو لیکن فرد کی آزادی اور معاشرے کی باشعوری کا مطلب کیا نبی کی شان اقدس میں گستاخی لیا جائے،؟
ہرگز نہیں
معذرت کے ساتھ آپ کی کفتگو اور میرے جواب کے بعد یہ بات کسی اور طرف نکلی جارہی ہے
اور محسوس ہورہا ہے کہ بحث کا نیا دروازہ کھلنے جارہا ہے
لہذا میں مزید بحث سے گریز کرتے ہوئے
اس بات کو ان اشعار پر ختم کرتا ہوں
وضاحت کر نہیں سکتا مگر آواز دیتا ہوں
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سید الکونین کی امت کے دیوانے
کہ ناموس بنی کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
جناب میرے کہنز کا مقصد صرف یہ ہے کہ شان اقدس میں اصل گستاخی خاکے بنانے سے زیادہ اس وقت ہوتی ہے جب ایک عورت کسی مسلمان ملک میں اپنا جسم بیچنے پر مبجبور ہو جاتی ہے۔ جہاں انصاف نہیں ہوتا، جہاں لوگ بھوک سے مرتےہیں۔ جہاں انصاف نہیں ملتا، جہاں لوگ جھوٹ بولتے ہیں، جہاں جان بچانے والی ادویات تک میں ملاوٹ کی جاتی ہے، جہاں اپنی قوم کے لوگوں کو مرچوں میں اینٹیں اور آٹے میں بھوسہ پیس کر کھلایا جاتا ہے۔ میرے رسول کو ان خاکوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مجھے ان خاکوں سے تو جو تکلیف پہنچی وہ پہنچی مگر اس سے دس ہےار گنا زیادہ تکلف اس وقت پہنچتی ہے جب میں اپنے ملک میں لوگوں کو مرتا دیکھتا ہوں، یہ جتنے بھی لوگ آج مجھے سڑکوں کو نعرے لگاتے نظر آ رہے ہیں، یہ سب وہی ہیں جو معاشرے کی برائیوں پر مظاہرہ کرنا چاہتے تھے، جو اپنے اندر جمع بھڑاس نکالنا چاہتے تھے مگر انہیں موقع ہی نہیں مل سکا۔
یہ کھلی منافقت نہیں تو اور کیا ہے۔ آپ ہر وہ کام کریں جو حضور ص کو ناگوار تھا، جو اسلام کی روح کے منافی ہے اور اپنی ان غلیظ ترین حرکتوں کو چھوڑ کر آپ کو ان خاکوں پر ناموس رسالت یاد آجاتی ہے۔ ناموس رسالت اور روح محمدی کو جتنا نقصان اور جتنی اذیت ان چودہ سوسالوں میں ہم نے خود دی ہے اور جس کا سلسلہ اس وقت تک جاری ہے، کسی اور شخص کسی خاکے اور کسی اور معاشرے سے نہیں ملی ہوگی۔
جب تک مسلمان معاشروں میں سوالات پوچھنے کا سلسلہ شروع نہیں ہو گا۔ جب تک بحثیں نہیں ہوں گی، جب تک لوگ انکھیں کھول کر ایمان نہیں لائیں گے۔ جب تک آپ کو یہ احساس نہیں ہو گا کہ میں ایک فرد ہوں اور مجھ سے پوری قوم جڑی ہے اس وقت تک یہ تمام چیزیں ہوتی رہیں گی اور اس وقت تک آپ کو مجھے ہم سب کو یہ سب کچھ سہنا ہی پڑے گا۔
یہاں میرے لفظوں کی پیمائش مت کیجئے، ان کی خوبصورتی اور بد صورتی کو مت دیکھئے۔ جو میں کہنا چاہ رہا ہوں شاید وہ میرے دل کی آواے ہے، شاید میرے لفظ میرا ساتھ نہ دے رہے ہوں۔ شاید آپ کو وہ بات محسوس تک نہ ہو مگر سچ یہی ہے کہ اس وقت عالم اسلام کا کوئی ملک اور کوئی فرد ایسا نہیں جسے انسانیت کا محسن قرار دیا جا سکے۔ ہم مسلمانوں کے دعوے بڑے ہیں اور کردار بہت چھوٹے۔ جناب اس موضوع کو اٹھانے کا مقصد ایک دوسرے کے ایمان کا امتحان لینا نہیں بلکہ یہ جاننا ہے کہ کیا کیا جائے۔
حل کیا ہے؟
آپ کی تمام تر دلیلیں تو صرف یہی بتاتی چلی جا رہی ہیں کہ مسلمان ایک بہت عظیم قوم ہیں اور ہر طرح سے ٹھیک ہیں مگر گڑ بڑ کہیں اور ہے۔ نہیں گڑ بڑ اپنے اندر ہے اسے درست کرنے کی ضرورت ہے اور وہ روایات سے نہیں علم سے بلکہ جدید علم سے ہی درست ہو سکتی ہے۔ ایک ایسا علم جو ہمیں مادہ کی ماہیت بھی بتائے اور اس کے تخلیق کار کی طاقت بھی۔
میں احمد بھائی کے ہم خیال ہوں کہ اب اس بحث کو یہی ختم کر دینا چاھیئے کہ واقعی اب یہ کسی اور طرف نکلی جا رہی ہے …. میں ذاتی طور پر کسی آڈییل دنیا کے تصور کو نہیں مانتی .. یہ دنیا ہے اس کو ایسے ہی چلنا ہے جیسے میرے رب کا حکم ہو گا .. کفار و مسلم آپس میں برسرپیکار ہی رہیں گے .. مغرب کی مصنوعات استعمال کرنے سے مسلمانیت پر کیا فرق پڑ سکتا ہے سمجھ نہیں آیا ۔۔ یہ تو ایسے ہی ہوا کہ ہم یہ مفروضہ بھی قائم کر لیں کہ جو مسلمان مغرب میں رہتے ہیں وہ سارے شراب اور شباب میں پڑے ہونگے ۔۔ نہیں بھائی ہم یہاں پر مذہب ، معاشرت اور کلچر گڈ مڈ کر رہے ہیں ۔۔ ہم جہاں کہیں بھی رہیں اپنی پہچان کے ساتھ رہتے ہیں اور ہماری پہچان ہمارا کلچر ، تہذیب ہے جس کو ہم اپنے مذہب کی روشنی میں ترتیب دیتے ہیں اور اپنی معاشرت کا حسہ بناتے ہیں ۔ ۔۔ اس سے تجارت کے اصول سیکھتے ہیں ۔۔ سب کچھ ہمیں ہمارا مذہب بتاتا ہے ۔۔ ہمارا ایمان ہمیں سکھاتا ہے ۔۔ بھائی ہمیں اسی ایمان اور اپنی پہچان کی سلامتی مانگنی ہے اور اس کی بقا کے لئے آخری سانس تک لڑنا ہے … ایمان کہاں سے شروع ہوتا ہے اور ہم سے کیا چاہتا ہے اس پر دھیان دیجئے ناکہ ایک آڈئیل دنیا کی تلاش میں جو اپنے دامن میں اسے بھی گنوا دیں .. فریڈم وہاں ختم ہو جاتا ہے جہاں سے دوسروں کا فریڈم شروع ہو جاتا ہے ..
میر اخیال ہے کہ حضور اکرم نبی پاک کی زات اقدس کسی کی محبت اور عقیدت کی محتاج نہیں .. بلکہ میرے خدا نے انہیں سب سے زیادہ دے رکھا ہے جو ان کی شان میں سب سے زیادہ گستاخی کرتے ہیں…. محتاج تو ہم ہیں ان کی ایک نظر کے جس کے صدقے یہ کائیات تخلیق ہوئی ..ہم اتنی بڑی بڑی باتوں کو کرنے کے قابل ہوئے … اور آخرت میں بھی انہی کی شفاعت کے محتاج ہیں …
وہ ہمارے آقا ہیں .. سب سے فعال مذہب انہوں نے ہمیں عطا کیا .. سب سے حسین کتاب انہوں نے ہمیں دی … اور آج جب ان کے احسانوں کوصرف یاد کرنے وقت آیا تو ہم اپنے ہی گھر کے جھگڑوں کو لے کر بیٹھ گئے … کیا گھر میں باپ کو صرف اس لئے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ کوئی اس کے فلاں رشتے کو اور فلاں رشتے کو کوئی نہیں مانتا … ارے یہ ہمارے نبی پاک کی بات ہے .. کسی گھر کے سربراہ کی نہیں … اس کائینات کے بادشاہ کی بات ہے جس پر ہر عالم میں ہر پل درود و سلام بھیجے جاتے ہیں … جس کو مانے بغیر اللہ نہیں مانتا .. جس کی آل کو مانے بغیر اس کا نبی نہیں مانتا .. اس کو ماننا ہماری ضرورت ہے .. ان کی نہیں ..
ارے یہ وقت ہے کہ آپس کے اختلاف بھی ایک طرف رکھ دئے جائیں اور اپنے لئے نیا لائحہ عمل تیار کیا جائے .. ایک نئی حکمت عملی سے آغاز کیا جائے … ایک آخری بات … کہہ کر اپنی بات ختم کرتی ہوں .. کیا یہود و نصاری اس بات کی گارنٹی دے سکتے ہیں کہ وہ ہمارے مذہب اور ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرکے آئیندہ ہماری دل آزاری نہیں کریں گے .. وہ اگر یہ گارنٹی دیں دے تو ہم مسلمان بھی انہیں شیورٹی دیتے ہیں کہ کبھی کوئی احتجاج نہیں ہو گا …!
ایک اور بات یہ ہے کہ ہر معاشرے میں برے لوگ ہوتے ہیں، یہاں بھی ہیں۔ اس معاشرے کا کوئی ایک آدمی ہر کچھ روز بعد اٹھے گا اور وہ ایسی کوئی حرکت کرے گا۔ تو آپ اپنے اپنے ملکوں میں شور مچائیں گے۔ فیس بک پر پابندی عائد کریں گے۔ یو ٹیوب بند کر دیں گے۔ مگر نتیجہ کیا نکلے گا۔ کچھ بھی نہیں۔ مجھے سمجھ یہ نہیں آتا کہ ہر معاملے میں دوسروں پر الزام عائد کر کے خود کو نہایت نیک و کار سمجھنے کی عادت کب جائے گی۔ جناب یورپ اور مغرب تو ہمارے حریف ہیں نہ، وہ تو ایسا کریں گے ہی مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ ہم کر کیا سکتے ہیں۔ آپ کے شور مچانے سے اس سوئیڈن کی اس عورت کو کیا نقصان پہنچا ہے۔ وہ پیج جسے 20 مئی تک کے لئے بنایا گیا تھا اور پیج 22 مئی کو ختم کرنے سے کیا مسئلہ حل ہو گیا۔
یا تو کہئے کہ مغرب کا بائیکاٹ ہے ہم کوئی ایسی چیے استعمال نہیں کریں گے جو مغرب نے بنائی ہو۔ ہم تمام چیزیں خؤد سے تیار کریں گے۔ ہم خود ایجادات کریں گے۔ مگر وہ تو ہو نہیں سکتیں ہم سے۔ ہم نے گاڑی بھی چلانی ہے اور گورے کو گالی بھی دینی ہے۔ ہم کیا کریں کہ منافقت ہماری رگوں میں بہہ رہی ہے۔
مغل دور آپ کے سامنے ہے۔ جس آپ امارت اسلامی کا ایک عظیم نمونہ کہتے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ نعرہ بھی لگاتے ہیں کہ ہم نے ہندوستان پر ہےار سال حکومت کی۔ مگر کبھی یہ تک نہیں سوچا ہم نے کہ وہ حکومت مسلمانوں نے نہیں کی تھی۔ ایک خاندان نے حکومت کی تھی اور اس خاندان کی حکومت کا نہ تو اسلام کو کوئی فائدہ پہنچا نہ وہاں پر رہنے والے کسی ہندوستانی مسلمان کو۔ یہ بڑے بڑے دعوے بند کریں اور اپنی اصلاح کریں۔ حقیقت کا ادراک رکھنا اچھی بات ہوتی ہے۔ جناب جب تک آپ میں دم تھا آپ نے بھی یورپ کے ساتھ یہی کیا ہے۔ کون سا ملک تھا، جس کو بے شمار بار تہہ بالا نہیں کیا آپ نے۔ آپ اسپین پر بھی جھنڈے لہراتے رہے ہیں وہ سب آج جب وہ طاقتور ہیں اور ایسا کر رہے ہیں تو تکلیف کس بات کی ہے۔ آپ کر لیجئے۔ حقیقت کا ادراک تو رکھیں۔
چلیں جناب میں بھی آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ بحث کسی اور ہی سمت نکلی جا رہی ہے، سو اسے ختم ہی کر دیا جائے۔۔۔
بہرحال اس موضوع پر اس گراں قدر بات چیت کا بہت شکریہ۔ گفتگو بہت ضروری ہے کہ اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ اور میرے لئے سیکھنا بہت معنی رکھتا ہے۔ آپ احباب کا شکریہ۔
عاطف میرے بھائی وہ سارے وقت ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے سے واپس نہیں آئیں گے بلکہ ایک دوسرے کو تحمل سے برداشت کرنے سے اور ایک دوسرے کے نظریات سے عزت سے پیش آنے سے آئیں گے … تحمل برداشت سے جب ایک دوسرے کے نقظہ نظر کو سمجنے کے قابل ہو جائیں گے تب ہی بات سمجھ سکتے ہیں .. اگر تمہیں ہماری سوچ بری اور اجنبی لگ رہی ہے تو ہمیں بھی تم ویسے ہی لگ رہے ہو .. سو سٹریس لیول کو ہائی کرنے کی بجائے سکون سے مل کر سوچتے ہیں کہ وہ علم کیس حآصل کریں جو ہمیں مادہ کی ماہیت بھی بتائے اور اس کے تخلیق کار کی طاقت بھی .. کیسے لوگوں میں یہ امن اور بھائی چارہ پھیلائیں ..
شکریہ عاطف کہ ہم سب نے بھی اس بحث سے بہت کچھ سیکھا .. اور اب یہ طے ہوا کہ ہم سب کو اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اپنے اپنے حصے کا یہ کام کرنا ہو گا ..
یہ سب سے اہم بات ہے باجو، ہمیں سچی نیت سے اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہے ان ان تمام لوگوں سے جو ایسی سازشیں کرتے ہیں، بہتر کرنا ہے۔ ہمیں دکھانا ہے کہ ہم ان سے بہتر ہیں۔ قول سے ہی نہیں کردار سے بھی۔۔
شکریہ 🙂
عاطف توقیر صاحب گو کہ گفتگو کر کر کے جا چکے ہیں اور اب بلاگ کا بھی بستر تقریبا گول ہو چکا، پھر بھی چند گزارشات ضروری سمجھ کر حوالہء قرطاس کر رہا ہوں، تا کہ اتمام حجت ہو جائے۔ مجھے خوشی ہے کہ برادرم محترم احمد ترازی صاحب نے حجت پوری کر دی ہے، لیکن میں اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے بات کو مزید بڑھا رہا ہوں۔
پہلی بات تو یہ کہ لگتا ہے محترم یہ سمجھ رہے ہیں کہ عالم اسلام کُل کا کُل غلط راستے پر چل رہا ہے اور ایک وہی اسکو صحیح سمت دکھانا چاہتے ہیں، تویہ محض خام خیالی ہے۔ ہم نے پہلے بھی براہین پیش کی تو آنجناب نے فرمایا کہ ماضی کو مت دہرایئے۔ ہم نے کبھی اپنے ماضی کا تابناک کہا ہے نہ ایسا جانتے ہیں۔ لیکن یہ عجیب معمہ ہے کہ پہلی بات انہوں نے یہی کی کہ میری مدد کریں، اور جب مدد کی کوشش کی تو الٹا اپنا ہی رٹا رٹایا سبق ہم پر ٹھونسنے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ تاریخ اسلام سے نا واقفی اپنی جگہ، لیکن اصول بحث سے بھی نا بلدی کے سبب اپنی ہی بات کے الٹ چل رہے ہیں۔
مدنی زندگی اور مکی زندگی میں فرق کو جانے بناء، محض بڑھیا کا واقعہ دہراتے رہنا عقل کی بات نہیں۔ بے شک نبیء رحمت، ہیں ہی سراپا ء رحمت۔ لیکن بنی قریظہ اور ان کے حواریوں کے ساتھ سلوک کو بھی تو پیش نظر رکھیں۔ جنگ خیبر اور جنگ تبوک کو بھی تو یاد کیجیئے۔ اسلام کہاں کہتا ہے کہ اب کے مار کے دکھا بھائی؟ سورہ ء احزاب،اور سورہء توبہ پڑھ کر تو دیکھیں۔
احترام رسول کی بحث کو آپ مادر پدر آزاد معاشرے کی خوبیاں گنوانے کی طرف لے گئے؟ آپ نجانے کس دنیا میں رہتے ہیں جہاں آپ اہل مغرب کو آزاد سمجھ رہے ہیں۔ کتنی خبریں زوزانہ سنسر ہو کر آپکی پہنچ سے بھی دور رہتی ہیں۔ معاشرتی آزادی کیا اس کو کہتے ہیں جہاں عورت اپنی مرضی سے حجاب کر سکے نہ بدن چھپا سکے؟ معاشی آسودگی آپ نے کہیں دیکھ لی ہو تو دیکھی ہو، ہم نے تو یہاں شاز ہی دیکھی۔ پیر سے جمعہ تک کی کمائی ویک اینڈ پر ساتھ چھوڑ جاتی ہے، اسے آسودگی کہیں گے یا کریڈٹ کارڈ اور پرسنل لون کی زنجیروں کو آزادی؟
آپ کو ہماری تحریریں پڑھ پڑھ کر مسکرانے کی ضرورت نہیں، بلکہ جا کر سورہ حجرات اور سورہ تحریم کو بمعہ تفسیر پڑھئیے۔ اگر پھر بھی مسکرانے کو جی چاہے تو پھرہمیں قالوا سلاما کہنا ہوگا۔ بار بار جس علم کی بات آپ کر رہے ہیں، اگر وہ سلمان رشدی کی کتب سے ملتا ہے تو آپ کو ہی نصیب ہو۔ مسلمان ملکوں میں جامعات کم ہیں تو کیا ہوا، لیکن معیار تعلیم ان لوگوں سے بہتر ضرور ہے۔ کم از کم یہاں آسٹریلیا میں تو اکثریت بارہ جماعت پاس لوگوں کی ہی ہے۔ یہاں کی جامعات تو ہندوستانی، چینی اور لبنانی باشندوں سے بھری پڑی ہیں۔ ہمارے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جو انجینئیر، ڈاکٹر اور سائینسدان ہے، چاہے وہ یہیں کی جامعات سے پڑھے ہیں، وہ ٹیکسی چلانے پر مجبور ہے، جسکا سبب علم کا فقدان نہیں، بلکہ وہ معاشرتی آزادی ہے جس کے آپ گیت گا رہے ہیں۔ ہلاکو خان نے مسلمانوں پر قابو تعلیم کے سبب سے نہیں، بلکہ قوت سے پایا تھا۔ اور اب مغرب کے پاس تعلیم اور قوت دونوں مجتمع ہیں۔
جہاں تک ہندوستان پر مسلمانوں کی حکومت کی بات ہے تو میں آپ سے متفق ہوں، یہ اسلامی حکومت تھی اور نہ ہی ریاست۔
بھئی بات یہ ہے کہ ہمارا میڈیا جسقدر آزاد ہے، اتنا مغرب میں نہیں ہے۔ یہ لوگ صرف اپنے محاسن دکھاتے ہیں اور ہم اپنے عیوب۔ اسی لئے ہم اپنے آپ سے شرمندہ رہتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کیا شعبہ کیا ہے، روزانہ کتنی اخبارات کا مطالعہ کرتے ہیں اور کن کن ممالک کی اخبارا ت پڑھا کرتے ہیں۔ ولیکن یقین جانیں میں جب روزانہ اسرائیل، روس، امریکا اور ہندوستان کے اخبارات دیکھتا ہوں، تو دل تھام کر رہ جاتا ہوں۔ دنیا کیا کر رہی ہے، ہمارے یہاں اسکا عشر عشیر بھی نہیں پہونچتا۔ اس وقت ہماری ملت کو سیاسی بیداری کی اشد ضرورت ہے، ملی یکجہتی کی ضرورت ہے، اور قیادت کی ضرورت ہے۔
جہاں تک رسول پاک کی گستاخی کا تصور ہے تو آپ نے پوچھا تھا کہ اسلام اور خود حضور پاک کا عمل رد کیا ہے تو ہم پہلے ہی بیان کر چکے ہیں قرآن کی آٰیت بھی اور حضرت علی علیہ السلام کا فعل بھی جسے خود رسول پاک نے سند دی۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اپنے اوائل خلافت میں ایک جنگ صرف ان لوگوں سے کی تھی جو منکرین نبوت تھے، مرتدین تھے یا جھوٹے داعیان نبوت تھے۔ اب یا تو یہ کہئیے کہ صرف آپ درست ہیں اور نعوذ باللہ حضرت ابو بکر صدیق (رض) کو بھی صبر و شکیبائی کے ساتھ گزارہ کر لینا چاہئے تھا اور انکا عمل غلط تھا اور یہ کہ العیاذ باللہ سورہ حجرات غلط ہے، یا پھر تسلیم کر لیں کہ آپ غلط سوچ پر ہیں۔ خود مفروضے قائم کر کے ان پر قائم ہوجانا علم کی دلیل نہیں ہے۔ دلائل صرف مستند مآخذات سے ہی دئیے جا سکتے ہیں، نہ کہ محض کسی کی سوچ ہونے کے سبب انہیں قبول کیا جا سکتا ہے۔ اپنی غلطی کو تسلیم کر لینا ہی انسان کو کامیابی کے راستے پر لیجاتا ہے ورنہ نوح (ع) بلاتا رہ جاتا ہے اور بیٹا اپنی عقل پر بھروسہ کر کے پہاڑیوں پر چڑھ دوڑتا ہے۔ ہدایت بار بار دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی۔ صرف اتمام حجت کافی ہوتا ہے، باقی اپنا اپنا نصیب ہے۔
آپ کو یہ بھی گورا نہیں کہ مسلمان مل کر حضور کی گستاخی پر اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کر دیں تو پھر نجانے آپ کس دن جاگنا پسند فرمائیں گے۔ ہمیں دشمنان رسول سے نفرت ہے اور انکے حامیوں سے بھی نفرت ہے، اس میں کوئی تفریق نہیں چاہے ہمارے گھر کے بڑے ہوں یا چھوٹے۔ ہمیں اس پر فخر ہے اور یہی زندگی و آخرت کا اثاثہ۔
مجھے نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ محتجج لوگوں کو پُر امن احتجاج سے بھی روکنا، گستاخی ء رسول برداشت کر لینے اور کرانے کی کوشش ہے، جس کی میں شدید ترین مذمت کرتا ہوں۔
آپ کے بقول آپ خود عاشق رسول ہیں، بتائیے تو کیا ہم اس دنیا میں اپنے والدین، بیوی بچوں اور اہل خاندان کا اسطرح تماشہ بنتے دیکھنا پسند کرتے ہیں؟ کیا محبت کا تقاضا یہی ہوتا ہے جو آپ فرما رہے ہیں؟ خدا کے لئے احترام رسول کے موضوع کو ادھر اُدھر مت لے جائیں اور اصل موضوع کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
اتمام حجت ہو چکا، وما علینا الا البلاغ المبین۔ اس موضوع پر مزید کوئی جواب نہیں دیا جائے گا، انشا ء اللہ العزیز۔
مصباح بھائی آپ کی یہ بہن آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کرکھڑی ہے اور اسی لہجے میں کہتی ہے کہ محتجج لوگوں کو پُر امن احتجاج سے بھی روکنا، گستاخی ء رسول برداشت کر لینے اور کرانے کی کوشش ہے، جس کی میں شدید ترین مذمت کرتی ہوں۔
اتمام حجت ہو چکا، وما علینا الا البلاغ المبین۔
محترم عاطف توقیر صاحب بعد از سلام عرض ہے کہ اعتراض اگر میری زات پہ ہوتا تو میں یقینا در گزر سے کام لیتی لیکن یہاں تو محسن انسانیت کی زات مقدس پر بات تھی ۔۔۔۔کمال ہے کہ اگر کوئی یہ کہے کہ نادیہ کا کارٹون بنانا ہے مقابلے میںشریک ہونے کے لئے فلاں تاریخ کو فلاں ویب سائٹ پر ا جا نا تو کیا میرے حقیقی چاہنے والے اجازت اسے دیتے؟ گو میں اسے نظر انداز بھی کر دیتی تو یہی مسلہ امت محمدی کا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی خوبصورت ہستی کی شان میں ایسی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔کیا کسی کا کارٹو ن بنانا ازادی رائے ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
باجی اور مصباح بھائی
ہم اس حوالے سے کہ
’’ محتجج لوگوں کو پُر امن احتجاج سے بھی روکنا، گستاخی ء رسول برداشت کر لینے اور کرانے کی کوشش ہے، جس کی میں شدید ترین مذمت کرتا ہوں۔‘‘آپ کے ساتھ ہوں ،اتمام حجت ہو چکا، وما علینا الا البلاغ المبین۔
دل کی آزادی شہنشاہی ، شکم سامان موت
فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
اُسی سے ہے اسلام کا بول بالا
وہ سر چشمہ ِ نورِ فتحِ مُبیں ہے
وہ ہی مشعل ِ راہ عظم و یقیں ہے
اُسی سے ہمارے دلوں میں اُجالا
اُسی کے ہیں ہم پر یہ احساں سارے
قدم منزلیں چومتی ہیں ہمارے
اُسی نے اندھیروں سے ہم کو نکلا
سہارا دیا اُس کے نقشے قدم نے
اُسی کی توجہ اسی کے کرم نے
زمانے کے گرتے ہووں کوسمبھلا
اسی کی محبت ہے ایمان ِ کامل
اسی سے ملا ہم کوعرفانِ منزل
وہ نبیوں مین رحمت لقب بانے والا
مُرادیں غریبوں کی بر لانے والا
اسلام و علیکم
آپ سب سوچ رہیں ہوں گے کہ آخر یہاں یہ ساری نعت لکھنے کی کیا وجہ ہے تو یہ نعت لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک بار ہم پھر سے غور کریں کہ ہم کیا ہیں اور ہم پر یہ احسان کس کا ہے جو پہچان ہم کو ملی ہے وہ کس کا صدقہ ہے یہ کس کے قدموں کی خیرات ہے جو تمام عالم میں بنٹ رہی ہے کتینی آسانی سے کہہ دیا جاتا ہے کہ صبر سے کام لیا جائے صبر سے بہیت آسان سی بات ہے کہ جب کسی کے سامنے اُس کی ماں کے لیے غلط الفاظ استمعال کیا جائے اوراگلا بندہ جان کو آجائے تو ہم کہتے ہیں کہ ارے ہاں اُس نے سہی کیا غیرت مند تھا جو اپنی نیک شریف ماں کہ لیے کویی بُرا لفظ نہں سن سکا –
واہ صاحب واہ ماں کی شان میں گستاخی کرنے والے کو تو ہم نہیں چھوڑتے تو پھر وہ جس کی وجہ سے ہمارا وجود ہے جو ہمارا اصل ہے جس کے صدقے سے تمام کاینات ہے جس کی بدولت ہم اپنی ماں کاادب کرنا سکھے جس نے بتایا کے خُدا اور اُس کے رسول(ص) اور اُن کی اہلِبیت (ع) کے بعد اگر کسی کا رُتبہ ہے تووہ ماں ہے جس نے سارا درس دیا تو پھر ہم اس کے لیے کیسے بُرا سُن سکتے ہیں ؟؟؟ صبر تحمل ایک حد تک ٹھیک ہے کرنا چاہے مگر جب حد پار کر لی جائے تو کیا کرنا چاہے جو نہیں جنتا وہ کربلا کی تاریخ بڑھ لے اُس رحمت بننے والے اور تکلیف کے بدلے دُعا دینے والے نبی(ص) کے نواسے نے کربلا کے زریعے سے اب سے چودہ سو سال پہلے ہی سمجا دیا تھا بتا دیا تھا کہ جب ایسے حالات پیدا کر دیے جاہیں تو کیا کرنا پڑے گا –
جب حالات ایسے ہو جاہیں اور بات الله اور اُس کے پاک رُسول(ص) کی شان پر آجائے تو چُپ نہیں رہا جا سکتا
دین اسلام کی تاریخ گواہ ہے اسلام کی تمام جنگیں کیوں لڑی جاتی رہیں ؟؟ ارے بھاہی خُدا کو تو لوگ کسی نا کسی صورت میں مان ہی رہے تھے پر اُس کے ساتھ شریک بنا رکھے تھے االله کیا نہیں کر سکتا ؟؟ جس چیز کو کہتا ہو جا وہ ہو جاتی پھر شور کس بات کا تھا جنگیں کیوں ہوییں اس لیے کہ خدا کوصرف اپنی ذات نہیں منوانی تھی اُس کو اپنے ساتھ ساتھ اپنے حبیب (ص) کا کلمہ پڑھوانا تھا تمام دُنیا سے-
اگر سلمان رشدی جیسے جہنمی کے لیے دُعا کرنی چاہے تھی تو پھر کربلا کیوں ہوئی تھی ؟؟ حُسین (ع) دُعا کر دیتے جس کہ کہنے سے جس کے وسیلے سے فطرس جیسے فرشتے کو غرور کرنے کی سزا کے باجود پر مل سکتے ہیں جس کے گھر اولاد نا ہو اُس کو سات بیٹے مل جاہیں جس کے کہنے سے جنت سے لباس آجائے وہ دعا کر دیتے نا کا الله تو یزید معلون کو صیح رستہ دیکھا دے چلو تب نا کی توجب آلِ نبی (ص) کی چادریں لوٹیں گییں تب ہی دُعا کر دیتے کہ ان کوعلم اور عقل عطا کر دے تاکہ یہ ملعون عصمتِ نبی(ص) کی چادریں واپس کر دہیں پر ایسا نہیں ہوا دُعا نہیں کی گیی جہاد کیا گیا دین ِ خُدا اور نامِ نبی(ص) کی لیے جانیں قربان کی گیں اُس کے بعد بھی کہا جائے کہ اس موقعے پر صبر اور دُعا کی جائے تو میں بلکل بھی اتفاق نہیں کر سکتی –
ان کی مثال ایسے ہی لوگوں ی ہے جن کے لیے رسول(ص) سے خدا نے فرما دیا تھا کہ آپ ان کا رنج نا کریں—- ایسے لوگ دُعا کے نہیں صرف سزا کے قابل ہوتے ہیں اور اس بلاگ میں جو کہا گیا کہ ہم مُسلمان ہیں خدا کی پسنددیدہ قوم ہیں پھر بھی ہم ذلت اور پستی میں گرے ہوئے ہیں تو اُس کی وجہ یہ ہے کے ہم نے اپنے گھروں میں قرآن رکھ کر اُس پر ایمان تو رکھتے ہیں پر عمل نہیں کرتے اور غیر مسلم اُس پر ایمان نہیں رکھتے پر عمل کرتے ہیں –
اس بلاگ میں ایک اور بات کی گئی ہم نے صدیوں سے کوئی بڑا دماغ پیدا نہیں کیا کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا تو میری اتنی سے درخواست ہے کہ کہا جاتا ہے کے کُتے کی دُم پر جب پاوںّ آتا ہے تو وہ بھونکتا ہے تو اگر ہم کُچھ نہیں ہیں اور ہم کُچھ نہیں کر ریے کسی بھی جگہ کسی بھی مقام پر ان یہودیوں یا نصارا کوئی دبکھ یا نقصان نہیں دے رہے تو یہ کیوں بھونک رہے ہیں جواب یہ ہے کہ ان کی دُم پر ہمارا پاوّں ہے پوری طرح سے ہے جس کی ایک بہیت صاف مثال یہ ہے کہ کویی مُسلمان کافر نہیں ہو رہا پر بہیت سے بے دین بہیت سے عیسائی بہت سے ہندو اسلام قبول کر رہے ہیں بے شک کہ اُن کو خدا کا دین اپنی جانب راغب کرتا ہے پر خدا کے حکم سے اُس کی مدد سے اُن کی رہنُمائی کرنے والے یہ ہی دماغ ہیں جن کو آپ یا ہم اہمیت نہیں دیتے پر دینے والے دیتے ہیں اُس سے بڑا دماغ کیا ہوگا جوالله کے فضل و کرم سے کسی کو اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے آئے کسی جہنم میں جاتے ہوئے کو جنت میں لے جائے کسی مرتے کوزندگی کی طرف پلٹا دے –
ایک اور بات جو کی گیی وہ یہ کہ مُسلمان ذلیل ہو ریے ہیں بلکل ٹھیک ہو ریے ہیں کیوں کہ جس نبی(ص) کی شان میں گستاخی نہیں برداشت ہو ریی اُسی پیرِ کامل (ص) کی تعلیمات کو ایک طرف رکھے ہوئے ییں پر یہ بھی تو مانو نہ کہ اکثریت اسی ہے پر کہیں کُچھ لوگ تو اب بھی باقی ہیں جن کی وجہ سے مشرکین ِعالم کو ڈرہے خوف ہے میں کم سے کم یہ نہیں مان سکتی کہ یہ تمام قومیں یم سے ڈرتی نہیں ہیں ڈرتی ہیں خدا کی قسم ڈرتی ہیں مُسلمان مُمالک پر حملے اُن کو دبانہ اُن کا حق مارنا اُن پر ایسے حکمران لانا اور اُن کی پُشت پنہائی کرنا جوصرف کرپشن کے زریعے سے حکومت کرتے ہیں اور مُلک و قوم کو کھاتے ہیں ، یہ سب اسی سبب ہے کہ اُن کو ڈر ہے کہ اگر ان کے مُلکی مساہل سے نجات مل گئی تو وہ دن بھی دور نہیں ہوگا جب دُنیا کے ہر کونے سے خدا صرف ایک ہے اور الله اکبر کی صدا بُلند ہونے لگے گی –
ہاں اپنی کمزوری بھی ضرور تسلیم کرنی چایے ہم اُس نبی(ص) کے ماننے والے ہیں جو فرماتے ہیں کی علم حاصل کرنے کے لیے چین تک جانا بڑے تو جاوّ –
ہم کو اپنے عمل اور علم کے بل پر پہلے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ہم اُمتِ مُحمد (ص) کہلانے کے قابل ہیں
خود کو بہتر بنانے کے درمیان یہ بھی نہیں کر سکتے کہ کوئی ہمارے نبی(ص) کے خلاف کُچھ بھی بول دے اور ہم یہ بول کر چُپ ہو جاہیں کہ ابھی ہم خود کہ زرا کسے قابل کر لیں پھر میدان میں اُترتے ہیں جب ایک مومن ایمان کی طاقت کی ساتھ میدان ِ جنگ میں اترجاتا ہے تو پھر راستہ بھی مل جاتا ہے اور منزل بھی –
اور جووقت اور حالات ہم کو درپیش ہیں ان میں ضروری ہے کے علم اور علم اور ناموسِ رسالت کی حفاظت کے لیے تمام کشتیاں جلا کر کُودا جائے تاکہ ہم صرف آگے بڑھ سکیں پیچے جانے کا کوئی رستہ نا ہو کیوں کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو میدان ِ جنگ میں آپ (ص) کو کمر دیکھا جاتے تھے ویسے ڈر کس بات کا ہے یہ قوم جاگے کی ضرور کیوں کہ جس قوم کی بُنیاد میں علی(ع) اور خاتونِ جنت(ع) کا خون شامل ہو یہ مُمکن نہیں کے وہ تا حشر ذلت میں ہی ڈوبہ رہے نصرت ہمارا مقدر ہے اور مقدر کا لیکھا کون مِٹا سکاہے ؟؟؟ کم سے کم یہ منکرِ الله و نبی(ص) تو ہر گز نہیں
االله حافط و ناصر
جیتی رہو ثمرین ۔۔اللہ پاک تمہیں خوش رکھے اور دین و دنیا کی سرخروئی عطا کرے ۔۔ آمین
جناب، مسکرانے کی وجہ کوئی طنز نہیں تھی بلکہ یہ تھے کہ میں آپ کی حضور سےمحبت کے باعث اس واقعے پر آپ کے ردعمل کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس واقعے کے خلاف ہم سبھی ہیں۔ میں صرف یہ عرض کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کون سا راستہ ہے جس سے یہ سلسلہ ہمشیہ کے لئے رک سکتا ہے۔ جب یہاں زیادہ تر احباب کی رائے یہی ہے کہ احتجاج کر کے ہم اس سلسلے کو روک سکتے ہیں تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے، اگر سب کی متفقہ رائے یہی ہے تو میں آپ کی رائے کا احترام کرتے ہوئے ہر اعتبار سے آپ کے ساتھ ہوں۔
اللہ ہم سب کو علم و حکمت اور ایمان کامل عطا فرمائے
آمین
عاطف بھائی بڑی مہربانی آپ ساتھ تو آئے۔ میرے بھائی اگر ان چیزوں کا کوئی حل ہوتا تو کب کا نکل چکا ہوتا۔ ابلیس کو ابلیسیت سے کون روکے، جبکہ خداوند متعال نے اسکو یوم معلوم تک کی مہلت دے رکھی ہے۔ یہ احتجاج کوئی حل نہیں، صرف ہمارا رد عمل ہے۔
مشکور
نا چیز
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی ( ص) سے شرارِ بو لہبی
(اقبال )
چودہ سو سال سے ہی کیا ازل سے حق و باطل کی جنگ چھڑی ہوئی ہے اور چودہ سو سال سے شرارِبولہبی ، چراغِ مصطفوی ( ص) سے جنگ کررہا ہے ،
اور یہ سلسلہ قیامت تک چلتا رہےگا۔
چاند سے نفرت کرنے والے چاند پر تھوکتے رہینگے ۔
مگر اسلام کا کارواں اپنے ماننے والوں کی تمام تر کمزوریوںکے باوجود آگے بڑھتا رہے گا۔
توہین رسول ( ص) پر احتجاج کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے
مگر مسلمانو ں کو اپنے قول و فعل سے اپنے آپ کو اسلام کا ایک رول ماڈل ( مثالی نمونہ ) بنا کر رہنا ہوگا۔ تاکہ اسلام کے دشمن اسلام کو قبول کرتے رہیں اور یہ مذہب دنیا کا مقبول ترین مذہب بن جائے ۔
اسلام چودہ سو سال سےزندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہےگا۔
فقط:
منظور قاضی
جرمنی سے
قبلہ جناب قاضی صاحب بڑی مہربانی، دیر سے ہی سہی، آپ آئے تو۔ آپکی آمد تازہ ہوا کا جھونکا ہے اور آپ نے وہ بات دو مصرعوں میں کہ دی جس کے لئے ہم صفحات کے صفحات لکھتے رہے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی ( ص) سے شرارِ بو لہبی
ہمیں کردار و عمل کی تصحیح کی طرف یقینا متوجہ رہنا ہے۔
ھمارے پیارے نبی پر ھماری جانیں ھزار بار قربان ۔۔ اس دینی معماملے پر مسلمان حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی سےسازشی طاقتوں کو شہہ مل رھی ھے بحیثت مسلمان دنیا بھر میں موجود ڈیرھ ارب مسلمانوں کو متحد ھوکر اس صیہونی سازش کا مقابلہ کرنا ھوگا ۔ ھم مسلمان کتنے ھی بے عمل کیوں نہ ھوں مگر کوئ مسلمان نبی آخر پیغمبر اسلام ، یا کسی اور بنی کی توھین برداشت نیہں کر سکتا ھے اس محبت و عقیدت پر کوئ سودے بازی نیہں ۔ ۔۔ ھم کو ان توھین آمیز خاکوں کی پرزور مذمت کے ساتھہ شدید ترین درعمل بھی دکھانا ھے ۔۔۔ مسلمانوں کو مشتعل کرنے والے خاکوں کی ابتدا 30ستمبر 2005 کو ھوئ ۔ اس مسلے پر خاموشی جرم ھے مجھے ڈنمارک میں رھنے والے 2 لاکھہ مسلمانوں سے بھی شکوہ ھے ۔۔۔ اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے بھی کہ ھم نے پوری قوت سے توھین رسالت جیسے ناقابل معافی جرم پر بدی کے ان ایوانوں اور اخباروں کے دفاتر کو آگ کیوں نہ لگادی یہ سب دنیا کے سب سے بڑے دھشت گرد اور شیطان امریکہ اور اس میں بسنے والے سب سے طاقتور یہودیوں کی سازش ھے ۔۔ جس طرح متعدد مسلمان ممالک نے ڈنمارک سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے ھیں ۔سارے مسلمان ممالک کو
ڈنمارک ۔ اٹلی ۔ جرمنی ، فرانس ۔ اور باباۓ دھشت گرد امریکہ کا بائکاٹ کرنا چاھیے۔۔۔ ھم ان ممالک سے ملنے والی خیرات کے بغیر بھی تو علم و ھنر میں سائنسی ترقی میں پیش رو تھے۔۔۔ میں نے عرصہ ھوا کسی ڈچ پروڈکٹ کو استعمال نیہں کیا۔ ھم متحد ھوکر ان کا تجارتی بائیکاٹ کر سکتے ھیں ۔۔۔
میری بہت پیاری بہن ڈاکٹر نگہت نسیم ۔۔
میں بھی تمھاری بات کی پرزور تایئد کرونگی
اس بار یہ احتجاج اتنا شدید اور پر زور کیا جائے کہ دوبارہ ان کی ہمت ہی نہ ہو … ہم کو اپنا فرض نبھانا ہے .. ہم سے ہمارے عمل کی پرسشش ہے .. مجھ سے او آئی سی کے کسی بندے کا حساب نہیں لیا جائے گا … سوچو آج ہم سب ایک ہو کر اپنی سوچوں اور اپنے ایمان کی طاقتیں اکھٹی کر لیں تو کیا یہ ہمارے سامنے ٹھہر سکیں گے … نہیں میرے بھائی ہر گز نہیں … مولا علی کی قسم ہر مسلمان میں سے ایک علی نکلے گا اور خیبر شکن ہو گا … یہ طے ہے کہ ہم اپنے نبی پاک کی شان میں ایک لفظ برداشت نہیں کریں گے … ایسا کرنے میں ہی ہماری حیات اور نجات ہے ..
اے شافع روزمحشر ھم آپ سے بہت شرمندہ ھیں
اللہ کے محبوب نبی ھم آپ سے شرمندہ ھیں ھم سے کوتاھی ھوي ھے ھم روز محشر کیسے آپ سے شفاعت طلب کرینگے ۔۔
اللہ پاک کا وعدہ ھے کہ
بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر عیب لگانے والوں کی جڑ کاٹ دی جاۓ گی
ھماری صفوں سے جو بھی اٹھے گا اس کو اللہ کی نصرت و امداد ملے گی
آداب عرض
بقول کسی کے پاکستان میں فیس بک پر پابندی کی وجہ سے یہ معاملہ دنیا کی نظروں میں آیا ہے. ابھی پروپاکستانی پر سائٹ پر ایک سروے میں 2,968 لوگ جو کہ 70 فیصد بنتے ہیں اس بات کے حق میں ہیں کہ فیس بک کو پاکستان میں ہمیشہ کے لئے بند کیا جائے یہ 70 فیصد انٹرنیٹ کے صارف ہیں.
عاطف شاید آپ نے ایک کارٹون دیکھا ہو میں نے جب وہ دیکھا تو خود ہی فیصلہ کیا کہ اب فیس بک استعمال نہیں کرنا اس کارٹون میں کیا تھا میں نہیں بتا سکتا.
مگر ایک دکھ ضرور ہوتا ہے یہ مسلمان جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین برداشت نہیں کرسکتے وہ کاش اپنی کتابیں بھی پڑہیں جہاں حضور اکرم کی توہین بھی ملے گی. میں اپنی پوسٹ کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتا براہ کرم اسلامی کتب کا مطالعہ کیا جائے.
آیئے مل کر عہد کریں فیس بک کا ھم سب بائیکاٹ کرینگے ۔۔
یہ سوال میرے ذہن میں ابھرا کہ حضور کے نام پر کوئی خاکہ منسوب کرنے سے یا حضور کی زندگی کے کسی حصے پر کچڑ اچھالنے کی کوشش سے حضور کے مرتبے پر کوئی فرق پڑ سکتا ہے؟ کیا ان کے درجے میں کوئی کمی آ سکتی ہے؟ کیا ہزار ہا گنا بہتر نہ ہوتا کہ ایسی کسی بھی حرکت کو ہم سرے سے نظر انداز کر دیتے یا ایسے لوگوں کے حق میں دعا کرتے۔ بہت دن قبل مجھے سلمان رشدی کی کتاب پڑھنے کا موقع ملا۔ مجھے وہ کتاب پڑھ کر ہنسی بھی آئی اور غصہ بھی۔ ہنسی اس لئے کہ میں لکھاری ہوں اور وہ ناول مجھے صرف ایک اوسط درجے کا ناول لگا جو رشدی کے دوسرے ناولوں کے مقابلے میں انہتائی کم حیثیت کا تھا، اور اسے اتنی شہرت ملی اور اس کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں اور غصہ اس بات پر آیا کہ خواہ مخواہ اسے اتنی اہمیت دی گئی، کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس شخص کے لئے تمام مسلمان مل کر دعا کرتے کہ سلمان رشدی کے علم میں اضافہ ہو اور اسے حقیقت کا ادراک ہو سکے۔
عا طف بھیا آپ کی طرح میں بھی یہی سوچتی ہوں ۔اور طائف والے واقعہ کو پڑھتی ہوں تو یہاں آکر ٹہر جاتی ہوں جب فرمایا گیا
اے اللہ یہ لوگ نادان ہیں نہیں جانتے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا ان کو معاف فرما اور سیدھا راستہ دکھا
مجھے کل کے مصباح صاحب، صاحبِ بلاگ اور ڈاکٹر نگہت صاحبہ کے تبصروں سے کچھ ایسا تاثر ملا کہ شاید یہ بلاگ بند کیا جارہا ہو جس کی وجہ سے میں شامل نہ ہوا۔ ابھی جب مزید تبصرے پڑھے تو شامل ہونا فرض ٹھہرا، سو اپنی محدود سوچ پیش کر رہا ہوں۔
فیس بُک اور یُو ٹیوب کی پاکستان میں بندش کی وجہ بقول گُوگل کے ڈائیریکٹر کے حکومت کی اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنا ہے۔ اس بات کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج کل حکومتی مہروں پہ بے شمار کارٹون، ان کے سکینڈلز کی تفصیلات، ان کی عجیب و غریب حرکتوں کی عکاسی، ان کے جلسوں میں پیش آئے لطیفے اور ان کے تھنک ٹینک وزارء کے انٹرویوز اور ٹی وی ٹاک شوز کی تفصیلات ان دونوں سائئیٹس پہ دیکھی جاسکتی ہیں۔گُوگل کے ڈائیریکٹر کے اس الزام کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ یہ خاکے کوئی آج کی بات تو ہے نہیں بلکہ جب یہ شیطانی کھیل شروع ہوا تھا ، تقریباً تین چار سال پہلے، تب سے یہ خاکے گوگل کی سائیٹ پہ موجود ہی ہیں۔ فیس بک اور یوٹیوب بھی انہی کی ذیلی کمپنیاں ہیں لہذا ان تک یہ توہین آمیز مواد پھیلانا ان کے لئے کوئی مشکل نہیں ۔ اور تو اور انٹرنیٹ پہ ان کا اپنا تخلیق کردہ ، نعوذباللہ، پورا قرآن بمع ترجمہ بھی موجود ہے۔ ہم اس کا بے شک بائیکاٹ کر دیں اور نہ پڑھیں مگر باقی دنیا کے کسی نے ہاتھ نہیں باندھے۔
اب بات آتی ہے بائیکاٹ کی۔ میری ناقص رائے کے مطابق احتجاج کا یہ کوئی مئوثر طریقہ نہیں ہے کیونکہ اس شیطانی کھیل کے پیچھے ان کے کچھ خفیہ مقاصد ہوتے ہیں۔ ان کا پہلا ہدف پاکستان جیسے اسلامی ممالک میں’ری ایکشن ‘ ابھارنا ہے تاکہ لوگ جذبات میں باہر نکلیں اور اپنے ہی ملک کی املاک کو آگ لگائیں ، گولیاں چلیں، لاشیں گریں اور احتجاجی تحریک کوئی خونی رنگ اختیار کرے۔ ملک دشمن ایجنٹ اسے مزید ہوا دیں، ڈالروں کی صورت میں پٹرول مہیاکیا جائے اور کوئی راء کا ایجنٹ یا بلیک واٹر کا کارندہ آکے ماچس کی تیلی دکھادے اور یوں ملک کسی خانہ جنگی یا دہشت گردی کی لپیٹ میں آجائے اور انہیں ایک ’ غیر مستحکم نیوکلیئر سٹیٹ ‘ کا بہانہ ہاتھ آجائے تاکہ یہ اپنے دیرینہ ناپاک ایجنڈے کو پایہء تکملیل تک پہنچا سکیں ( اے اللہ ان کے ناپاک منصوبوں پہ تیرے غضب کی آگ برسے، آمین) ۔
’ری ایکشن ‘ کے ایسے جذبات ابھارنے میں ان کی دوسری دلچسپی طالبان یا القائیدہ جیسی تحریکوں کو زندہ رکھنا ہے تاکہ ان کے معصوم لوگ جلد از جلد جذبات کی رو میں بہہ جائیں اور گمراہ ہوکر انہی کے پالتو ایجنٹوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر ایسے ’ کارنامے‘ سرانجام دینے نکل پڑھیں جو ان کی خواہشات کے عین مطابق دنیا کو ان کے حق میں واضع پیغام دے دیں۔
اکیلے پاکستان کی پابندی، اگر وہ بھی نیک نیتی سے ہی لگائی گئی ہے جو کہ اوپر کی بحث سے مجھے خود مشکوک لگتی ہے، کوئی کارگر نہیں ہو سکتی جب تک کہ پوری اسلامی دنیا بیک وقت ایسا نہ کرے۔ اور یہ پابندی بھی فیس بک یا یو ٹیوب پہ نہیں بلکہ ان کے مفادات پہ ہونی چائیے۔ یہودیوں نے ڈنمارک ، سویڈن اور سکینڈے نیویا کے دوسرے مملک کو اپنا اڈا بنایا ہواہے ، لہذا ان ممالک کے مالی مفادات پہ کاری ضرب وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر سارے اسلامی مملاک مل کر ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں ، ان سے لین دین بند کر دیں اور احتجاجاً اپنے سفراء کو واپس بلوالیں تو ان شیطان ممالک کے ہوش ٹھکانے آجائیں۔ اسلامی کانفرنس آخر کس مرض کی دعا ہے۔
اس طرح کے مصنوعی بائیکاٹ کی بجائے ان کے پروپیگنڈے کے جواب کا دوسرا مئوثر طریقہ انہی کے ایجاد کردہ طریقے میں ہے۔ اسلام ہمیں کسی بھی نبی کی گستاخی سے منع کرتا ہے لیکن تحریر و تقریر کی اسی آزادی کا ہم فائیدہ کیوں نہیں اٹھا سکتے۔ ہولو کاسٹ پہ لکھنے یا کارٹون بنانے سے ہمارے ہاتھ کس نے پکڑ رکھے ہیں ؟ یہی ہوگا کہ شائع ہوتے ہے وہ ہٹا دیا کریں گے لیکں باربار کے عمل سے ان کی ناک میں دم تو کیا جاسکتا ہے اور پھر ہماری اسلامی دنیا میں ٹیلنٹ کی کون سے کمی ہے۔ کیا ہمارے الیکٹرانک، کمپیوٹر اور ملٹی میڈیا کے ماہرین ایسی سائیٹس کو نشانہ نہیں بنا سکتے؟ ابھی حال ہی میں ترکی کے کسی ماہر نے ایسی کتنی سائیٹس کو نشانہ بنایا ہے۔ لہذا یہ عمل اور بدلے کا وقت ہے اور وہ بھی انہی کی زبان میں۔
سایئٹس پہ پابندی اور بائیکاٹ محض بلی کو دیکھ کو کبوتر کے آنکھیں بند کرنے والی مثال ہے۔ پروپیگنڈے کا جواب جوابی پروپیگنڈے میں۔کسی کارٹون کا جواب کارٹون سے اور پھر ایسی سائیٹس کو ہیک کرکے نشانہ بنانا ، یہ ہے وقت کی پکار بھی اور جوابی للکار بھی !