چند تازہ اشعار آپ کی نذر
وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے
تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار
چند تازہ اشعار آپ کی نذر
وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے
تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار
یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔
معصوم مشکیزے
پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم
یہ نظم میں نے دسمبر سن 2000ء میں بھارت میں مشاعروں کے لئے جاتے ہوئے راستے میں لکھی تھی۔ ان دنوں حالات کو مدنظر رکھ کر اسے پڑھا جائے گا تو زیادہ واضح انداز میں سمجھی جا سکے گی۔ یہ نظم میرے تیسرے شعری مجموعے ‘‘بوند بوند رات‘‘ میں شامل ہے۔
ہندو لہو، مسلم لہو Continue reading ہندو لہو، مسلم لہو
نگہت باجو آپ کی نظم پڑھ کر مجھے اپنے کالج کے زمانے میں لکھی گئی ایک نظم یاد آئی میں نے سوچا اپنے تمام اہل فکر دوستوں سے بانٹ کر اپنا حصہ ملا دوں۔۔ یہ تب کی بات ہے، جب کراچی میں فوجی آپریشن جاری تھا اور ہم ہر روز بہت سے لوگوں کی موت کی خبریں بھی سنتے تھے اور شہر خوف میں ڈوبا ہوا بھی تھا۔
اس نظم کا نام ہے ‘‘موت‘‘ Continue reading موت ۔۔۔۔ نگہت نسیم باجو کی نظم پڑھ کر