افتخار نسیم افتی وفات پا گئے۔عالمی اخبار تعزیتی کتاب

چراغ ہوں میں اگر بُجھ گیا تو کیا غم ہے
کہ جتنی دیر جلا روشنی تو کی میں نے
مزید پڑھنے کے لیئے

غزل کے چند اشعار

چند تازہ اشعار آپ کی نذر

وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے

تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار

ایک پرانی غزل کے چند اشعار

یہ غزل خاصی پرانی ہے، مگر آج بہت دن بعد پھر یونہی ذہن میں آئی تو سوچا احباب سے بانٹتا چلوں۔ اس غزل کی عجیب بات یہ ہے کہ Continue reading ایک پرانی غزل کے چند اشعار

معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔

معصوم مشکیزے

پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم

کراچی کے ایک نواحی علاقے ٹھٹہ کی ایک چھوٹی سی بچی کے نام

یہ سن 2003ء میں لکھی گئی نظم ہے، مجھے ٹھٹہ میں ایک چھوٹی سی بچی ایک بس میں نظر آئی تھی۔ اس کا نام مجھے ظاہر ہے معلوم نہیں مگر میں اب تک وہ آنکھیں نہیں بھول پایا، جن کی معصومیت کو ایک خوف اور ایک بے بسی مل کر جھنجھوڑ رہے تھے۔ یہ نظم اس لڑکی کی اٖذیت میں کسی کمی کا اعلان نہیں بلکہ ایک شاعر کے طور پر میری بھی تکلیف اور بے بسی کا اعتراف ہے۔ Continue reading کراچی کے ایک نواحی علاقے ٹھٹہ کی ایک چھوٹی سی بچی کے نام

ہندو لہو، مسلم لہو

یہ نظم میں نے دسمبر سن 2000ء میں بھارت میں مشاعروں کے لئے جاتے ہوئے راستے میں لکھی تھی۔ ان دنوں حالات کو مدنظر رکھ کر اسے پڑھا جائے گا تو زیادہ واضح انداز میں سمجھی جا سکے گی۔ یہ نظم میرے تیسرے شعری مجموعے ‘‘بوند بوند رات‘‘ میں شامل ہے۔

ہندو لہو، مسلم لہو Continue reading ہندو لہو، مسلم لہو

یورپ میں اردو شاعری، زوال کا آنکھوں دیکھا حال

چند روز قبل میرے ایک برسوں پرانے عزیز دوست باقر زیدی جرمنی آئے اور ان سے حادثاتی طور پر ملاقات ہو گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ ان سے کوئی 1999ء سے 2002ء تک Continue reading یورپ میں اردو شاعری، زوال کا آنکھوں دیکھا حال