بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر
کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
Continue reading ایک غزل کے چند اشعار
بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر
کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
Continue reading ایک غزل کے چند اشعار
چند تازہ اشعار آپ کی نذر
وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے
تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار
یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔
معصوم مشکیزے
پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم
یہ سن 2003ء میں لکھی گئی نظم ہے، مجھے ٹھٹہ میں ایک چھوٹی سی بچی ایک بس میں نظر آئی تھی۔ اس کا نام مجھے ظاہر ہے معلوم نہیں مگر میں اب تک وہ آنکھیں نہیں بھول پایا، جن کی معصومیت کو ایک خوف اور ایک بے بسی مل کر جھنجھوڑ رہے تھے۔ یہ نظم اس لڑکی کی اٖذیت میں کسی کمی کا اعلان نہیں بلکہ ایک شاعر کے طور پر میری بھی تکلیف اور بے بسی کا اعتراف ہے۔ Continue reading کراچی کے ایک نواحی علاقے ٹھٹہ کی ایک چھوٹی سی بچی کے نام
پیغبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے خاکے اور آزادی اظہار، ہم پریشان ہیں، میری مدد کیجئے
چند روز قبل میں دفتر میں بیٹھا خبروں کی تلاش میں سرگرداں تھا Continue reading حضور کے خاکے، درست کیا ہے؟ میں پریشان ہوں، میری مدد کیجئے
ایک چشمٍ زدن میں منظر گھوم جاتا ہے.
کیا دیکھتا ہوں کہ ہمارے وطنٍ عزیز کے ایک متوسط شہر کی سرکاری ہسپتال ہے، جسے عرفٍ عام میں “سول ہسپتال” کا نام دیا جاتا ہے. فجر کے وقت سے ہی فرش پر فنائل کا پوچا دیا جا رہا ہے، ڈاکٹر Continue reading ..:: ایک حسین ع کے بخشے ہوئے کا سوال ہے بابا ::..
ہزار بار منع کیا کہ میر صاحب کو مت بتائیے گا کہ میں ہاسپیٹل میں داخل ہؤا ہوں، لیکن نہ جانے کس فرشتہٍ اجل (میرے) نے اسے یہ خبر دے ہی دی. پھر کیا تھا، دوسرے دن Continue reading ::.. کوئی نہ ہو تیمار دار ..::