صد افسوس کہ پی پی پی کے پاس کو ئی متبادل سیاسیت داں ا نہیں جو سابقہ وزیر اعظم گیلانی سے اچھا کٹھ پتلی کا کردار نبھاہ سکے ۔ اور وقت پڑنے پر اپنی ڈوریاں کاٹ کر قربان بھی ہو سکے ۔ مقابلہ گھمسان کا پڑا تو کئی سرکاری تماشہ کرنے والے میدان میں اترے پر کوئی راجہ اشرف سے نہیں جیت سکا ۔ راجہ اشرف وہی ہیں جنہیں اپنے ملک کی انرجی پلانٹس کا نہیں پتہ اور نہ عوام کی گرمی سے سسکتی بلبلاتی زندگیوں کا جبھی تو 2009 کا وعدہ کیا تھا کہ کبھی لوڈ شیڈنگ نہیں ہوگی ۔۔۔ دنیا کہاں سے کہاں چلی گئی راجہ صاحب ابھی بھی 2009میں اگست کے منتظر ہیں ۔۔۔
حیران ہوں انسانوں میں ایفائے عہد اور وطن پرستی کی لوڈ شیڈنگ کا کیا حل ہو ؟






