بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر
کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
Continue reading ایک غزل کے چند اشعار
بہت محبت کے ساتھ یہ غزل تمام احباب کی نذر
کبھی کہاں کی طلب ہے کبھی کہاں کی تلاش
سو ہر کسی کو ہے لاحق یہاں وہاں کی تلاش
Continue reading ایک غزل کے چند اشعار
چند تازہ اشعار آپ کی نذر
وجود حرف کو ایجاد بھی تو ہونا ہے
تمہاری یاد کو بنیاد بھی تو ہونا ہے
تو میرے خواب میں مت آئیو کہ صبح جنوں
جو خواب ہے اسے برباد بھی تو ہونا ہے Continue reading غزل کے چند اشعار
یہ غزل خاصی پرانی ہے، مگر آج بہت دن بعد پھر یونہی ذہن میں آئی تو سوچا احباب سے بانٹتا چلوں۔ اس غزل کی عجیب بات یہ ہے کہ Continue reading ایک پرانی غزل کے چند اشعار
تمہارا خواب میری رات تک کو کھا گیا ہے
خیال شب کی مدارات تک کو کھا گیا ہے
ہوائے شوخیء صبح نمود شوق و جنوں
تمہارا قرب میری ذات تک کو کھا گیا ہے Continue reading ایک غزل کے چند اشعار
یہ نظم کراچی کے پانی بیچنے والے ایک پٹھان بچے کی نذر ہے، جسے میں نے شاہراہ ء فیصل پر ناتھا خان پل کے نیچے ایک حادثے کے بعد مردہ حالت میں دیکھا تھا اور جس کے سڑک پر پھیلے ہوئے خون میں پانی اور چونیاں اٹھنیاں بھی بکھری ہوئی تھیں۔
معصوم مشکیزے
پیر میں تپتی دھوپ پہن کر
سر پر جلتا سورج ٹانکے Continue reading معصوم مشکیزے ۔۔۔ ایک نظم
یہ نظم میں نے دسمبر سن 2000ء میں بھارت میں مشاعروں کے لئے جاتے ہوئے راستے میں لکھی تھی۔ ان دنوں حالات کو مدنظر رکھ کر اسے پڑھا جائے گا تو زیادہ واضح انداز میں سمجھی جا سکے گی۔ یہ نظم میرے تیسرے شعری مجموعے ‘‘بوند بوند رات‘‘ میں شامل ہے۔
ہندو لہو، مسلم لہو Continue reading ہندو لہو، مسلم لہو
چند روز قبل میرے ایک برسوں پرانے عزیز دوست باقر زیدی جرمنی آئے اور ان سے حادثاتی طور پر ملاقات ہو گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ ان سے کوئی 1999ء سے 2002ء تک Continue reading یورپ میں اردو شاعری، زوال کا آنکھوں دیکھا حال
نگہت باجو آپ کی نظم پڑھ کر مجھے اپنے کالج کے زمانے میں لکھی گئی ایک نظم یاد آئی میں نے سوچا اپنے تمام اہل فکر دوستوں سے بانٹ کر اپنا حصہ ملا دوں۔۔ یہ تب کی بات ہے، جب کراچی میں فوجی آپریشن جاری تھا اور ہم ہر روز بہت سے لوگوں کی موت کی خبریں بھی سنتے تھے اور شہر خوف میں ڈوبا ہوا بھی تھا۔
اس نظم کا نام ہے ‘‘موت‘‘ Continue reading موت ۔۔۔۔ نگہت نسیم باجو کی نظم پڑھ کر
وہ دوستوں کا دوست اور یاروں کایار تھا. بے حد محبت اور پیار کرنے والا شخص جو کبھی کبھی تو کسی پر ٹوٹی چڑیا کو بھی دیکھ کر رو دیا کرتا تھا.
‘ شاہ جی بڑے ھمٰدانی صاحب نے 14 ،اگست 1947 کی رات کو پاکستان کے قیام کا اعلان کر کے اصل میں میری پیدائش کاا علان کیا تھا اور اب دیکھو ہر سال پوری قوم میری پیدائش کا جشن مناتی ہے”.
پرویز کو شاید یہ علم نہیں تھا کہ اگست کا یہی مہینہ اسکی برسی کا مہینہ بھی ہو گا. وہ لاہور میں اگست کے مہینے میں پیدا ہوا اور اسی اگست کے مہنیے میںلاہور میں ہی وفات پا گیا۔۔۔۔۔مزید پڑھنے کے لیئے یہاں کلک کریں